Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
138 - 4047
حدیث نمبر 138
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو فرمایا کہ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں  ۱؎ تو نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ صرف ایک شخص تھا کوئی نبی کہ ان کے ساتھ دو شخص تھے اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ جماعت تھی اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۲؎ پھر میں نے بڑی جماعت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیر رکھے تھے میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو ۳؎ تو مجھ سے فرمایا گیا کہ یہ موسیٰ ہی کی اپنی قوم ہے ۴؎ پھر مجھ سے فرمایا کہ دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیرے ہوئے تھا پھر مجھ سے کہا گیا ادھر اور ادھر دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارے گھیرے ہوئے تھے ۵؎ کہا گیا یہ ہے آپ کی امت اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار وہ ہیں جو بلا حساب جنت میں جائیں گے ۶؎ وہ وہ ہیں جو نہ تو پرندے اڑاتے ہیں،نہ منتر جنتر کرتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۷؎ حضرت عکاشہ ابن محصن کھڑے ہوگئے ۸؎  بولے حضور اﷲ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کرے، فرما یا الٰہی انہیں ان میں سے کردے ۹؎ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا بولا دعا کیجئے اللہ مجھے ان میں سے کرے،فرمایا اس دعا میں تم پر عکاشہ سبقت لے گئے ۱۰؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ پیشی یا تو میثاق کے دن ہوئی یا کسی خوابی معراج میں یا جسمانی معراج ہیں،تیسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج میں جہاں اور چیزیں ملاحظہ فرمائیں وہاں ہی سارے نبی مع ان کی اپنی امتوں کے حال آنکھوں سے دیکھے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ سے کوئی نبی اور ہر نبی کا کوئی امتی غائب نہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سب کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ہے۔

۲؎ یعنی بعض نبی دنیا میں بھی گزرے جن کی بات ایک شخص نے بھی نہیں مانی وہ ہمارے سامنے اکیلے ہی پیش ہوئے،بعض نبی وہ جن کی دعوت صرف ایک نے یا دو نے یا جماعت نے قوشل کی وہ نبی ہمارے سامنے اسی طرح ایک دو یا زیادہ کے ساتھ پیش ہوئے۔ معلوم ہوا کہ امت سے مراد امت اجابت ہے ۔

۳؎  یعنی اس جماعت کی یہ زیادتی دیکھ کر مجھے ا ندازہ ہوا  کہ  یہ میری امت ہوگی کیونکہ میرا دن قیامت تک ہے اور ہر زمانہ میں  لاکھوں  آدمی مسلمان ہیں۔

۴؎ یعنی یہ امت آپ کی نہیں  بلکہ موسیٰ علیہ السلام کی ہے جو ان پر ایمان لا ئے اور ایمان پر ہی مرے   مرتد نہ ہوئے۔ اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ نبی کے   اندازہ  میں غلطی ہوسکتی ہے تبلیغی احکام میں غلطی نہیں ہوسکتی ورنہ شریعت محفوظ نہ رہے گی،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کو علم آہستگی سے دیا گیا۔ خیال رہے کہ یہ لوگ صرف سامنے ہی تھے مگر تھے بہت کہ تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے۔

۵؎  یعنی اس جماعت کی کثرت کا یہ حال تھا کہ آگے داہنے بائیں ہرطرف اس کثرت سے آدمی تھے کہ تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ساری امت کو ملاحظہ فرمایا حضور سے کوئی شخص پوشیدہ نہیں۔

۶؎ مع ھولاء میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ اسی جماعت میں یہ لوگ بھی ہیں جوبغیر حساب جنت میں جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ ان کے علاوہ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب جنتی ہیں،پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔ستر ہزار سے مراد بے شمار لوگ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ خاص تعداد ہی مراد ہو، یعنی ساری امت میں ستر ہزار بے حساب جنتی ہیں۔اس دوسرے احتمال کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ فرمایا کہ ان ستر ہزار میں سے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار ہوں گے،قرآن مجید میں ہے"یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"۔اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا بعض لوگ حساب سے مستثنٰی بھی ہوں گے۔

۷؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ بے حساب جنتی وہ ہیں جو ان اعمال کی وجہ سے بے حساب بہشت میں جائیں گے،ان کے علاوہ اور بہت سی قسم کے لو گ بے حساب جنتی ہیں جیسے نابالغ فوت شدہ بچے،دیوانے صدیقین وغیرہ۔خیال رہے کہ یہاں حساب سے محشر کا حساب مراد ہے نہ کہ قبر کا حساب۔قبر کے حساب سے تو بہت سے لوگ مستثنٰی ہیں،قبر کے حساب سے آٹھ قسم کے لوگ محفوظ رہیں گے حتی کہ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہوا بلکہ جو روزانہ موت کو یاد کرلیا کرے وہ بھی حساب سے محفوظ ہے،قبر میں ایمان کا حساب ہے محشر میں اعمال کا حساب۔

۸؎  حضرت عکاشہ مشہور صحابی ہیں،بدر اور بعد بدر تمام غزوات میں شریک ہوئے،بدر میں آپ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضور انور نے آپ کو کھجور کی چھڑی عنایت فرمائی جو آپ کے ہاتھ میں پہنچتے ہی تلوار بن گئی،حضور نے آپ کو جنت کی بشارت دی،۴۵ پینتالیس سال عمر پائی،خلافت صدیقی میں وفات ہوئی،آپ سے حضرت ابوہریرہ عبداللہ ابن عباس اور خود آپ کی بہن ام قیس بنت محصن نے روایات لی ہیں،آپ کا کھڑا ہونا عرض معروض کے لیے تھا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرنا سنت صحابی ہے۔

۹؎  بعض روایات میں ہے کہ فرمایا انت منھم،ہوسکتا ہے کہ دعا بھی دی ہو اور بشارت بھی۔اس دعا سے معلوم ہوا کہ حضرت عکاشہ اس جماعت میں حضور کی دعا کی برکت سے داخل ہوئے ۔(مرقات)

۱۰؎  یہ دوسرے صاحب حضرت سعد ابن عبادہ تھے ۔(اشعہ و مرقات)اسی جواب عالی سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو سب کے انجام سب کے مقام و درجات کی خبر ہے کہ ایک صاحب کے لیے دعا فرمائی خبر تھی کہ یہ ان میں سے ہیں دوسرے کے لیے خبر تھی یہ ان میں سے نہیں،اب جواب کا مطلب یہ نہیں کہ جنت میں اب کوئی سیٹ خالی نہیں رہی یا وہ جماعت پوری ہوچکی تم کیسے داخل ہوؤگے،مطلب یہ ہی ہے کہ تم اس جماعت سے نہیں تمہارے لیے دعا کیسے کی جائے۔
Flag Counter