Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
137 - 4047
باب التوکل و الصبر

توکل اور صبر کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  توکل بنا ہے وکل سے یا وکول سے جس کے معنی ہیں اپنا کام دوسرے کے سپرد کردینا،اسی سے ہے وکیل۔اصطلاح میں توکل یہ ہے کہ اپنی عاجزی کا اظہار دوسرے پر بھروسہ کرنا،اسی سے ہے تکلان۔شریعت میں تو کل کے معنی ہیں اپنے کام حوالہ بہ خدا کردینا۔توکل دو قسم کا ہے : توکل عوام،اسباب پر عمل کرکے نتیجہ خدا کے حوالے کردینا ۔توکل خواص،اسباب چھوڑ کر مسبب الاسباب پر نظرکرنا۔ صبر کے معنی ہیں روکنا،شریعت میں صبر ہے مصیبت میں اپنے کوگھبراہٹ سے روکنا راضی بہ رضا رہنا۔صبر کی بہت قسمیں ہیں: عبادت پر صبر،گناہو ں سے صبر،مصیبت میں صبر،یہ تینوں صبر بہت اچھے ہیں،یہاں تیسرے معنی کا صبر مراد ہے جیساکہ آئندہ احادیث سے معلوم ہوگا۔یہ تیسری قسم کا صبر کئی طرح ہے عوام کا صبر اور ہے،خواص الخواص کا اور،خواص کا کچھ اور۔
حدیث نمبر 137
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو منتر جنتر نہیں کرتے ۱؎  فال کے لیے چڑیاں نہیں اڑاتے ۲؎  اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۳؎ ( مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی کفار کے چھوچھا سے بچتے ہیں ورنہ قرآنی آیات،دعاء ماثورہ سے دم کرنا سنت ہے بلکہ نامعلوم منتر پڑھنا ہی گناہ ہے جس کے معنی کی خبر نہ ہو کیونکہ ممکن ہے کہ ان الفاظ کے شرکیہ معانی ہوں لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔

۲؎  اہلِ عرب جب کسی کام کو جاتے تو چڑیوں سے فال لیتے تھے کہ کوئی چڑیا دیکھتے تو اسے اڑاتے اگر داہنی طرف اڑ جاتی تو کہتے کہ ہمارا کام ہو جاوے گا،اگر بائیں طرف اڑتی تو کہتے کہ ہمارا کام نہ ہوگا واپس لوٹ آتے یہ حرام ہے۔

۳؎  توکل کے معانی ابھی عرض ہوئے۔یہاں شاید خواص کا توکل مراد ہے یعنی ترک اسباب اور نظر برمسبب الاسباب۔
Flag Counter