Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
136 - 4047
حدیث نمبر 136
روایت ہے حضرت محمد ابن ابو عمیرہ سے ۱؎ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے تھے،حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے اپنے چہرے کے بل گر جاوے حتی کہ اللہ کی اطاعت میں بوڑھا ہوکر مرجاوے ۲؎ تو اس دن اس عبادت کو حقیر سمجھے گا ۳؎ اور تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹایا جاوے تاکہ اجروثواب اور زیادہ کرے۴؎ دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔
شرح
۱؎ چونکہ محمد ابن ابو عمیرہ کی صحابیت مشہور نہ تھی اس لیے راوی نے یہ کہہ دیا کہ آپ حضور کے صحابی تھے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔(اشعہ)

۲؎ یہ فرضی صورت ہے جس سے بہت بڑا مسئلہ حل فرمایا گیا ہے یعنی فرض کرلو کہ کوئی شخص پیدا ہوتے ہی عبادت میں ایسے مشغول ہوجائے کہ کبھی کوئی کام نفس کے لیے نہ کرے اور اسی حال میں بوڑھا ہوکر مرجائے۔چہرے کے بل گر جانے کا مطلب ہے عبادات میں مشغول ہوجائے،ممکن ہے کہ اس سے سجدہ میں گرجانا مراد ہو بہرحال مطلب ظاہر ہے۔

۳؎ یعنی یہی کہے گا کہ میں نے کچھ نہ کیا اور موقعہ ملتا تو اور کچھ کرلیتا    ؎

کچھ نہ کیا مگر چلا عمر کو مفت کھوچلا 		عرض ہے تم سے یا شہا میری طرف کو دیکھنا

۴؎ یعنی عبادات ریاضات کے لیے دنیا میں پھر بھیج دیا جاوے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ جسے رب تعالٰی بخش دے گا وہ دنیا میں لوٹنے کی تمنا نہ کرے گا کہ وہاں مطلب یہ ہے کہ یہاں رہنے سہنے یہاں کے عیش کرنے کے لیے یہاں آنے کی تمنا نہ کرے گا یہ آرزو دوسرے مقصد کے لیے ہے۔
Flag Counter