Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
135 - 4047
حدیث نمبر 135
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شداد سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ بنی عذرہ کے تین شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ مسلمان ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ہماری طرف سے کوئی سنبھالے گا ۲؎ جناب طلحہ بولے میں،تو وہ ان کے پاس رہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو ان میں سے ایک اس لشکر میں گیا وہ شہید ہوگیا ۳؎ پھر اور لشکر بھیجا تو ان میں دوسرا گیا تو وہ شہید کردیا گیا پھر مرگیا تیسرا اپنے بستر پر۴؎ راوی کہتے ہیں کہ جناب طلحہ نے فرمایا کہ میں نے ان تینوں کو جنت میں دیکھا ۵؎ اور اپنے بستر پر مرنے والے کو ان سب کے آگے دیکھا اور جو پیچھے شہید ہوا تھا اسے اس کے قریب دیکھا اور پہلے کو اس کے قریب دیکھا۶؎ میرے دل میں اس سے کچھ آگیا ۷؎ تب پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا تو فرمایا کہ تم نے اس میں سے کس چیز پر تعجب کیا اللہ کے نزدیک اس مؤمن سے کوئی افضل نہیں جسے اسلام میں زیادہ عمر دی جاوے ۸؎ اس کی تسبیح اس کی تکبیر اس کے کلمہ کی وجہ سے ۹؎
شرح
۱؎ آپ تابعی ہیں،آپ کے والد شداد ابن اوس صحابی ہیں،حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کی خالہ ہیں،بڑے عالم متقی تھے، حضرت عمر،علی،معاذ ابن جبل،ابن عباس سے روایات لی ہیں رضی اللہ  عنہ بلکہ اپنے والد،اپنی خالہ سے بھی روایات لی ہیں۔

۲؎ یعنی ان نو مسلم فقراء کا کھانا کپڑا وغیرہ ہمارے ذمہ ہے جو ہماری طرف سے ان کا خرچ برداشت کرے تا قیامت ہم جیسے فقیروں کا گزارہ حضور کے دروازے سے ہوتا رہے گا،دنیاوی وسیلے انہیں کے کرم کا مظہر ہیں۔

۳؎ یعنی یہ تینوں حضرات جناب ابو طلحہ کے مہمان دائمی رہے حتی کہ ایک جہاد میں ان تینوں میں سے ایک شخص شہید ہوگیا۔

۴؎ یہ تیسرے صاحب یا تو ان دو جہاد میں گئے ہی نہ تھے یا گئے تھے مگر شہید نہیں ہوئے تھے بعد میں بیماری سے اپنے بستر پر فوت ہوئے مگر تھے جہاد کے لیے بالکل تیار یعنی مرابط فی سبیل اللہ یہ قیود بہت خیال میں رہیں۔(مرقات)

۵؎ خواب میں دیکھایا کشف سے۔(مرقات)یہ حدیث الہام اولیاء،کشف اولیاء کی دلیل ہے،بعض حضرات کشف قبور کرلیتے ہیں اس کا ماخذ بھی یہی ہوتا ہے۔

۶؎ یعنی انہیں جنت میں اس طرح دیکھا کہ تیسرے صاحب جو شہید نہ ہوئے تھے ان میں نمبر اول تھے،دوسرے شہید نمبر دوم ہیں اور پہلے شہید نمبر سوم ہیں یہ اولیت آخریت درجہ اور مرتبہ کی تھی کہ جیسا درجہ انہیں ملا تھا ویسا ہی انہوں نے دیکھا۔

۷؎ یعنی یہ ترتیب دیکھ کر مجھے ایسا سوال یا اشکال پیدا ہوا جس کو میں خود حل نہ کرسکا کہ غیر شہید تو نمبر اول اور شہداء اس کے ماتحت۔

۸؎ مقصد یہ ہے کہ دوسرے شہید کو پہلے شہید سے کچھ زیادہ عمر مل گئی اور تیسرے صاحب کو ان دونوں سے زیادہ عمر ملی،چونکہ انہیں ذکر اللہ،عبادت،اطاعت کا موقعہ زیادہ ملا اس لیے یہ دونوں اس پہلے شہید سے افضل ہوئے اور ان دونوں میں یہ تیسرے صاحب دوسرے شہید سے اعلٰی ہوئے۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ یہ تیسرے صاحب بھی شہادت جہاد کے لیے تیار تھے اس لیے انہیں حکمی شہادت تو مل گئی ذکر اللہ میں بڑھ گئے لہذا ان کا درجہ زیادہ ہوگیا۔

۹؎ معلوم ہوا کہ مسلمان کی زندگی کا ہر دن بلکہ ہر ساعت اس کی نیکیاں بڑھ جانے کا ذریعہ ہے اللہ تعالٰی ایسی زندگی نصیب فرمائے۔
Flag Counter