| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن پکارنے والا پکارے گا کہ ساٹھ سالہ لوگ کہاں ہیں ۱؎ یہ عمر وہ ہے جس کے متعلق اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کیا ہم نے تم کو اس قدر عمر نہ دی جس میں نصیحت پکڑنے والا نصیحت پکڑے ۲؎ اور آیا تمہارے پاس ڈرانے والا ۳؎ (بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یعنی پہلے ساٹھ سالہ بوڑھے حاضر ہوں اپنی عمروں کا حساب دیں کہ انہوں نے اتنی دراز عمر کس کام میں خرچ کی۔ ۲؎ کیونکہ انسانی عمر کے تین حصے ہوتے ہیں: بچپن،جوانی،بڑھاپا۔ساٹھ سالہ آدمی یہ تینوں حصہ پالیتا ہے،بچپن میں نہ سنبھلے تو جوانی میں سنبھل جائے،اگر جوانی میں نہ سنبھلے تو بڑھاپے میں ٹھیک ہو لیکن اگر بڑھاپے میں بھی نہ درست ہو تو پھر کب ہوگا اب تو صرف موت ہی باقی ہے لہذا بڈھا گنہگار کوئی عذر و معذرت نہیں کرسکتا۔ ۳؎ ڈرانے والے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن مجید یا بڑھاپا یا موت ہے،بوڑھے کے پاس یہ سارے ڈرانے والے پہنچ جاتے ہیں۔