Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
133 - 4047
حدیث نمبر 133
روایت ہے حضرت سفیان ثوری سے فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانہ میں مال ناپسند تھا ۱؎ لیکن آج مال مؤمن کی ڈھال ہے۲؎ اور فرمایا اگر یہ اشرفیاں نہ ہوتیں تو یہ بادشاہ ہم کو رومال بنالیتے۳؎ اور فرمایا کہ جس کے پاس کچھ دولت ہو تو وہ اسے سنبھالے۴؎ بڑھائے کیونکہ یہ زمانہ وہ ہے کہ اگر کوئی محتاج ہوجاوے تو پہلی جو چیز خرچ کرتا وہ اس کا دین ہے ۵؎ فرمایا کہ حلال مال میں فضول خرچی کی گنجائش نہیں ۶؎ (شرح سنہ)
شرح
۱؎ یعنی زمانہ رسالت میں زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش کرنا ناپسند تھا اس وقت لوگوں پر حال کا غلبہ تھا۔مال کے لیے بہت دوڑ دھوپ اس میں نقصان دہ ہوتی تھی،اس کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ مال حرام یا مکروہ یا ناپسند تھا،مال سے زکوۃ،حج،قربانی،جہاد ہوتے ہیں۔اچھی چیزوں کا ذریعہ اچھا ہوتا ہے گویا اس زمانہ میں لوگوں کو زہد و قناعت مرغوب تھی۔

۲؎ یعنی اب اس زمانہ میں مال حلال بہت سے گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے کہ مؤمن کا اس کے ذریعہ چوری،حرام خوری،نام نمود،دکھاوا،محتاجی سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

۳؎ یعنی اگر میرے پاس دولت نہ ہوتی تو مجھے حکام رومال کی طرح استعمال کرتے کہ اپنی گندگی مجھ سے صاف کرتے، مجھے پیسوں کا لالچ دے کر غلط فتویٰ لیتے اور میرے فتووں سے اپنے ظلم جائز کرا لیا کرتے،غریب مولوی کا علم امیروں کے پیسہ پر نچھاور ہوتاہے الا ماشاء اﷲ۔مندیل بنا ہے ندل سے بمعنی میل،مندیل میل دور کرنے کا آلہ یعنی رومال،مالدار کا مولٰی صرف اﷲ تعالٰی ہے غریب کا مولٰی ہر امیر ہے۔

۳؎ یعنی اپنے مال کو ضائع نہ ہونے دے اسے بڑھانے کی کوشش کرے،مال کی قدر کرے خصوصًا عالم دین کے لیے مال بہت ہی ضروری ہے کہ مالدار عالم کے وعظ میں تاثیر اور ہی ہوتی ہے۔

۵؎ دیکھ لو غریب مسلمانوں سے مال کے ذریعہ جھوٹی گواہیاں حرام پیسے بلکہ قتل و خون کرائے جاتے ہیں اور غریب علماء سے پیسہ کے ذریعہ غلط فتوے لکھوائے جاتے ہیں،غریب اماموں سے پیسہ دے کر ناجائز نکاح پڑھوائے جاتے ہیں، متھرا آگرہ کے علاقہ میں ہزار ہا غریب مسلمانوں کو پیسہ دے کر ہندو بنالیا گیا یہ فرمان بالکل درست ہے۔

۶؎ یعنی حلال مال اس لائق نہیں کہ اسے فضول خرچی کرکے برباد کردیا جائے،اس کی قدرو منزلت کرنی چاہیے یا حلال مال میں فضول خرچی کی گنجائش نہیں وہ اتنا زیادہ نہیں ہوتاکہ اس میں فضول خرچی کی جائے۔اردو میں کہتے ہیں مال حرام بجائے حرام یا مال مفت دل بے رحم،یا یہ مطلب ہے کہ حلال روزی کو فضول خرچی سے اڑا کر دوسروں کا محتاج بن جانا حماقت ہے،اسے سنبھالو تاکہ اوروں کے محتاج نہ بنو،قرآن کریم فرماتاہے:"لَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوٰلَکُمُ الَّتِیۡ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ قِیٰمًا"اپنا مال ناسمجھ بچوں کو نہ دو اللہ نے مال کو تمہاری بقا کا ذریعہ بنایا ہے یا یہ مطلب ہے کہ حلال مال میں فضول خرچی بربادی نہیں واقع ہوتی۔
Flag Counter