Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
132 - 4047
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 132
روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تجلی فرمائی(تشریف لائے)۲؎ آپ کے سر پر پانی کا اثر تھا ہم نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم حضور کو بہت خوش دل دیکھ رہے ہیں۳؎ فرمایا ہاں،راوی کہتے ہیں کہ پھر قوم امیری کے ذکر میں مشغول ہوگئی۴؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مالداری میں حرج نہیں اس کے لیے جو اللہ سے ڈرے ۵؎ متقی کے لیے تندرستی امیری سے بہتر ہے۶؎ اور دل کی خوشی نعمتوں میں سے ہے ۷؎ (احمد)
شرح
۱؎  یہ صاحب یسار ابن عبد ہیں جیساکہ حاکم اور ابن ماجہ میں ہے،چونکہ تمام صحابہ بحکم قرآن عادل ہیں کوئی صحابی فاسق نہیں اس لیے صحابی کا نام معلوم نہ ہونا حدیث کی صحت کے لیے مضر نہیں۔(مرقات)

۲؎ ایسے تشریف لائے جیسے سورج طلوع کرتا ہے کہ رات کو دن اندھیرے کو اجالا بنا دیتا ہے،سوتوں کو جگا دینا طلع فرمانا بہت ہی موزوں ہے۔

۳؎ یعنی حضور نے غسل کیا ہے جمال باکمال اور بھی نکھر گیا ہے،چہرہ انور پر خوشی کے آثار ہیں ۔اﷲ حضور کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے،رنج و غم کی ہوا بھی نہ لگائے کہ ان کی خوشی سے دنیا کی خوشی وابستہ ہے،ان کا جمال سب کی خوشی کا ذریعہ ہے۔

۴؎ کسی نے وجہ نہ پوچھی کہ اس خوشی کا سبب کیا ہے بلکہ اور گفتگو شروع ہوگئی اس میں مالداری کا ذکر بھی تھا کہ یہ اچھی ہے یا بری۔

۵؎ لاباس فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ فقر مع صبر افضل ہے غنی مع شکر سے،یہ بہت بڑی بحث ہے یعنی غنی جب خوف خدا کے ساتھ ہو تو اس میں حرج نہیں۔

۶؎ یعنی دنیا میں دل کا چین روح کا آرام اﷲ کی بڑی نعمت ہے،رب فرماتاہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"وہاں دو جنتوں سے مراد ہے دنیا کی جنت یعنی دل کا چین اور آخرت کی جنت اللہ رسول کا دیدار،مال کی خوشی اللہ کے ذکر والوں کے قرب سے نصیب ہوتی ہے۔

۷؎ کیونکہ مالداری کا انجام حساب بلکہ کبھی عقاب ہے جس سے فقراء دور ہیں۔
Flag Counter