۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں کہ آپ حضرت حسان ابن ثابت کے بھتیجہ ہیں،خود بھی صحابی ہیں والد بھی صحابی،آخر میں بیت المقدس میں رہے،آپ علم و حلم دونوں کے جامع تھے،آپ کی کنیت ابو یعلٰی انصاری ہے،صحابہ کرام آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔(اشعہ،مرقات)
۲؎ دان کے بہت معانی ہیں اگر دُنو سے بنا ہے تو بمعی قریب کرنا،قریب جاننا ہے اور دین سے بنا ہے جو مغلوب ہے دنی کا تو بمعنی عاجز کرنا ہے عاجز سمجھنا ہے،بعض نے فرمایا کہ بمعنی حساب لینا ہے یعنی اپنے کو اﷲ تعالٰی سے اس کے رسول سے نیک بندوں سے قریب رکھے یا اپنے کو موت سے قریب جانے یا اپنے اعمال کا خود حساب لیتا رہے نیک اعمال پر شکر کرے برے اعمال سے توبہ۔
۳؎ یعنی کوئی کام نفس یا دنیا کے لیے نہ کرے ہر کام آخرت کے لیے کرے حتی کہ اس کا کھانا پینا،چلنا پھرنا،سونا جاگنا بلکہ جینا مرنا اﷲ کے لیے ہو"اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"ایسا آدمی دنیا میں رہتا تو ہے مگر دنیا والا نہیں ہوتا اﷲ تعالٰی اس پر عمل کی توفیق دے۔
۴؎ اس فرمان عالی میں عاجز سے مراد بے وقوف ہے کیس کا مقابل،نفس امارہ سے دبا ہوا یعنی وہ بے وقوف ہے جو کام کرے دوزخ کے اور امید کرے جنت کی،کہا کرے اللہ غفور و رحیم ہے،باجرہ بوئے اور امید کرے گیہوں کاٹنے کی،کہا کرے کہ اللہ غفور رحیم ہے کاٹتے وقت اسے گندم بنادے گا اس کا نام امید نہیں رب تعالٰی فرماتاہے:" مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیۡمِ"اور فرماتا ہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوۡنَ رَحْمَتَ اللہِ"۔جو بو کر گندم کاٹنے کی آس لگانا شیطانی دھوکہ اور نفسانی وسوسہ ہے۔خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کو جھوٹی امید نے سیدھی راہ نیک اعمال سے ہٹا دیا ہے جیسے جھوٹی بات گناہ ہے ایسے ہی جھوٹی آس بھی گناہ ہے کرو اور ڈرو۔(اشعہ،مرقات)