۱؎ غالبًا بندہ سے مراد بندہ مؤمن ہے یعنی اﷲ تعالٰی اپنے بندہ مؤمن کی جب بھلائی چاہتا ہے تو نہ تو اسے رہنے دے کہ وہ اپنی زندگی برباد و ضائع کردے،نہ اسے گناہوں میں مبتلا ہونے دے۔ممکن ہے کہ عبد سے مراد ہر بندہ مؤمن و کافر ہے،اللہ تعالٰی اپنے بندہ کو کافر نہیں رہنے دیتا آخر کار وہ مؤمن ہوجاتا ہے۔
۲؎ یعنی انسان کام ہمیشہ ہی کرتا ہے کوئی شخص بے کار نہیں رہتا جاگنا،چلنا،پھرنا بھی تو کام ہی ہیں سرکار نے کام سے کون سا کام مراد لیا ہے۔
۳؎ یعنی کام سے مراد نیک کام ہیں اور کام لینے سے مراد اس کی موت کے قریب کام لینا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ایسے بندے کا انجام اچھا ہوتا ہے اگرچہ زندگی گناہوں میں گزارے مگر توبہ کرکے گناہوں کا کفارہ ادا کرکے مرتا ہے خاتمہ کا اعتبار ہے۔اس حدیث سے دو فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ مؤمن کی زندگی موت سے افضل ہے۔(اشعہ)کہ زندگی عمل کا وقت ہے دوسرے ہر کسی گنہگار کے متعلق ہم فیصلہ نہیں کرسکتے کہ وہ دوزخی ہی ہے یہ تو اﷲ کو خبر ہے،ممکن ہے کہ وہ مرتے وقت نیک ہوجائے۔خیال رہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ موت زندگی سے افضل ہے کہ وہ راحت آرام اور اپنے کام کے پھل پانے کا زمانہ ہے۔عشاق کہتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف کے زمانہ میں مؤمن کی زندگی فراق کا زمانہ ہے موت یار کے دیدار کا ذریعہ ہے۔
سنا ہے قبر میں دیدار ہوگا بے حجابانہ کفن کو پھاڑ کر اٹھیں گے مردے اپنی مدفن سے
۴؎ یہ حدیث حاکم نے بسند صحیح،احمد،ابن حبان،طبرانی نے مختلف صحابہ سے مختلف عبارتوں سے روایت کی۔(مرقات)