Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
129 - 4047
حدیث نمبر 129
روایت ہے حضرت ابو کبشہ انماری سے ۱؎ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تین باتیں وہ ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ایک بات کی تمہیں خبر دیتا ہوں ۲؎ اسے یاد رکھو وہ تین باتیں جن پر میں قسم فرماتا ہوں وہ یہ ہیں کہ کسی بندے کا مال صدقہ سے نہیں گھٹتا ۳؎ اور کوئی ظلم نہیں کیا جاتا جس پر وہ صبر کرے ۴؎ مگر اﷲ تعالٰی اس سے اس کی عزت بڑھاتا ہے ۵؎ اور کوئی بندہ مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا مگر اللہ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے ۶؎ اور جس چیز کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں جسے تم یاد رکھو،فرمایا دنیا چار شخصوں کے لیے ہے ایک وہ بندہ جسے اللہ مال اور علم دونوں دے ۷؎ تو وہ اس میں اﷲ سے ڈرتا ہے،رشتہ داروں سے سلوک کرتا ہے اور اس میں اﷲ کے لیے ان کے حق کے مطابق عمل کرتا ہے ۸؎ تو یہ بہترین درجوں میں ہے ۹؎ اور ایک وہ بندہ جسے اﷲ نے علم دیا مال نہ دیا لیکن وہ ہے سچی نیت والا،کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کے لیے کام کرتا ان دونوں کا ثواب برابر ہے ۱۰؎ اور ایک وہ بندہ جسے اﷲ مال دے اورعلم نہ دے تو وہ اپنے مال میں بغیرعلم خلط ملط ہی کرتا ہے ۱۱؎ اس میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا اپنے رشتہ داروں سے سلوک نہیں کرتا اور نہ اس میں حق کے عمل کرتا ہے ۱۲؎  تو یہ خبیث ترین درجہ والا ہے ۱۳؎ اور ایک وہ بندہ جسے اﷲ نہ مال دے نہ علم تو وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں کے سے کام کرتا تو وہ اپنی نیت پر ہے۱۴؎ اور ان دونوں کا گناہ برابرہے ۱۵؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
شرح
۱؎ آپ کا نام عمرو بن سعد ہے یا سعد ابن عمرو یا عامر ابن سعد صحابی ہیں،آخر زمانہ میں شام میں رہے۔

۲؎ یعنی تین خبریں قسم سے بیان کرتا ہوں اور ایک خبر بغیر قسم کے۔خیال رہے کہ حضور انور کی خبر خواہ قسم سے ہو یا بغیر قسم بالکل حق اور درست ہے،حضور کی خبر کا درست ہونا ایسا ہی لازم و ضروری ہے جیسے اللہ تعالٰی کی خبر کا حق ہونا لازم ہے کہ رب تعالٰی کا جھوٹ بھی ناممکن ہے اور نبی کا جھوٹ بھی ناممکن اگرچہ وہ بالذات ہے یہ محال بالغیر جیسے رب تعالٰی کی قسمیں تاکید کے لیے ہوتی ہیں ایسے ہی حضور انور کی قسمیں تاکید کلام کے لیے ہیں۔

۳؎ یہاں صرف اقسم فرماکر قسم کھائی گئی و اللہ،باللہ نہیں فرمایا یہ بھی قسم کا ایک طریقہ ہے۔صدقہ سے مراد ہر خیرات ہے فرضی ہو یا نفلی۔تجربہ شاہد ہے کہ خیرات سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہیں۔آزما کر دیکھ لو میرا رب سچا،اس کے رسول سچے صلی اللہ علیہ وسلم ۔صدقہ سے دنیا میں برکت آخرت میں ثواب ہے۔فقیر کا تجربہ تو یہ ہے کہ صدقہ والے مال کو عمومًا حاکم،حکیم،وکیل چور نہیں کھاتے دنیاوی نقصانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔

۴؎ یہاں صبر سے مراد اخلاقی صبر ہے نہ کہ مجبوری کا صبر۔صبر،معافی،تحمل کی جو آیات منسوخ ہیں ان میں مجبوری کا صبر ہی مراد ہے،رب فرماتاہے:"فَاعْفُوۡا وَاصْفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ"۔

۵؎ چنانچہ یوسف علیہ السلام نے اپنے دربار میں آئے ہوئے بھائیوں کو معافی دی،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام اہل مکہ کو معافی دے دی جن سے عمر بھر ظلم و ستم دیکھے تھے،دیکھ لو آج تک ان حضرات کی واہ واہ ہورہی ہے یہ ہے عزت بڑھنا۔شعر

صدقےاس انعام کےقربان اس احسان کے		ہو رہی  دونوں  عالم  میں  تمہاری واہ واہ

۶؎ تجربہ شاہد ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے پاس اولًا تو مال جمع ہوتا ہی نہیں،اگر ہوجائے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جمع کرکے چھوڑ جاتے ہیں،انکے مال میں برکت نہیں ہوتی۔مرقات میں ان کی مثال اس کتے سے دی ہے جو منہ میں ٹکڑا لیے شفاف و صاف نہر پرگزرے اس میں اپنے عکس کو دیکھ کر سمجھے کہ یہ دوسرا کتا ہے اس سے ٹکڑا چھین لینے کے لیے اس پر منہ پھاڑ کر حملہ کرے اپنا ٹکڑا بھی کھو بیٹھے۔

۷؎ علم سے مراد علم دین ہے۔معلوم ہوا علم دین بھی اﷲ تعالٰی کی دنیاوی نعمتوں سے ایک اعلٰی نعمت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ مال سانپ ہے علم دین تریاق،ہمیشہ تریاق کے ساتھ زہر مفید ہوتا ہے،بغیر تریاق ہلاک کردیتا ہے۔

۸؎ اگرچہ بحقہ میں سارے سلوک،صدقات داخل ہیں مگر چونکہ عزیزوں قرابت داروں کے حقو ق ادا کرنا بہترین عبادت ہے اور تمام صدقات میں اعلٰی و افضل اس لیے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا گیا۔

۹؎ اس لیے کہ یہ شخص دین و دنیا دونوں جگہ سرخرو شاد آباد رہے گا کیونکہ وہ مال کمائے گا حکم الٰہی کے مطابق،خرچ کرے گا اسی کے مطابق،جمع کرے گا اسی فرمان کے ماتحت۔مال کی آمد،جمع،خرچ سب شریعت کے مطابق چاہیے۔

۱۰؎ معلوم ہوا کہ نیکی کی تمنا بھی نیکی ہے۔غریب عالم خواہ زبان سے تمنا کرے یا فقط دل سے بہرحال ثواب برابر ہی ہے۔

۱۱؎  یتخبط بنا ہے خبط سے بمعنی بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارنا خلط ملط کرنا اس لیے دیوانگی کو  تخبط کہتے ہیں،دیوانہ کو خبطی کہ وہ ہر طرح بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ" یعنی وہ ہر حرام و حلال طریقے سے مال کماتا ہے اور ہر حلال حرام جگہ خرچ کرتا رہتا ہے،نہ خود عالم ہے نہ علماء کی بات مانتا ہے جیساکہ آج کل عام امیروں کا حال ہے۔

۱۲؎  ایسے لوگ اگر کبھی اچھی جگہ خرچ بھی کرتے ہیں تو اپنی ناموری کے لیے خرچ کرتے ہیں مگر بے فائدہ بلکہ مضر۔

۱۳؎ کیونکہ اس کا مال اس کے لیے وبال ہے،مال کی وجہ سے اس پر گناہوں کے دروازے بہت کھل جاتے ہیں وہ مال کے نشہ میں نہ کرنے والے کام کرتا رہتا ہے۔اﷲ تعالٰی عثمانی مال دے ابوجہلی مال سے بچائے۔

۱۴؎ یعنی فلاں بدمعاش مالدار کی طرح میں بھی شراب پیتا،جوا کھیلتا،زنا کرتا۔کروں کیا کہ یہ کام پیسہ سے ہوتے ہیں اور میرے پاس پیسہ نہیں۔

۱۵؎ یعنی یہ بدنصیب بغیر کچھ کیے سب کچھ کررہا ہے کرنے والوں کے ساتھ دوزخ میں جارہا ہے۔
Flag Counter