Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
128 - 4047
حدیث نمبر 128
روایت ہے حضرت عبید ابن خالد سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان بھائی چارہ فرمایا ۱؎ تو ان میں سے ایک اﷲ کی راہ میں مارا گیا پھر ایک ہفتہ یا اس کے قریب میں دوسرا آدمی فوت ہوا ۲؎ لوگوں نے اس پر نماز پڑھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کیاکہا ۳؎ عرض کیا ہم نے اﷲ سے دعا کی کہ اسے بخش دے اس پر رحم کر اسے اس کے ساتھی سے ملادے۴؎ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس شہید کے بعد اس کی نمازیں اور اس کے عمل یا فرمایا شہید کے روزوں کے بعد اس کے روزے کہاں گئے ان کے درمیان کا فاصلہ آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ ۵؎ دراز ہے(ابوداؤ د،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی وہ بڑا بدنصیب ہے جس کی زندگی دراز اور اس کے گناہ نیکیوں سے زیادہ ہوں،اس کی زندگی ہر دن اس کے گناہوں میں اضافہ کرے۔

۲؎ یہ حدیث طبرانی،حاکم،بیہقی ابو نعیم نے مختلف راویوں اور مختلف الفاظ سے روایت فرمائی ان الفاظ سے اور حضرت ابوبکرہ سے صرف ان دو کتب میں ہی ہے۔(مرقات)آپ صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبداﷲ ہے،کوفہ کے رہنے والے ہیں،مہاجر ہوکر مدینہ منورہ میں حاضرہوئے لہذا مہاجر ہیں۔(اشعہ،مرقات)یا تو یہ دونوں شخص مہاجر تھے یا ایک ان میں سے مہاجر تھے دوسرا انصاری،دوسرا احتمال قوی ہے کیونکہ عقد مواخات بھائی چارے کا رشتہ مہاجر اور انصاری میں کیا جاتا تھا۔یہ پتہ نہیں چلا کہ شہید کون صاحب ہوئے مہاجر یا انصاری،بہرحال ایک صاحب پہلے شہید ہوئے ہیں اور دوسرے صاحب کچھ بعد اپنے بستر پر فوت ہوئے۔

۳؎ یعنی اس میت کی نماز جنازہ میں تم نے اس کے لیے کیا دعا کی۔خیال رہے کہ نماز جنازہ میں دعاء ماثورہ تو پڑھی ہی جاتی ہے اس کے علاوہ اور دوسری دعاؤ ں کی بھی اجازت ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں اور بہت دعائیں کی ہیں۔

۴؎ یعنی یہ صاحب شہید نہیں ہوئے اور ان کا بھائی ایک ہفتہ پہلے شہید ہوگیا،مولٰی تو اپنے کرم سے اس کو اسی شہید کا درجہ عطا فرما،ان دونوں کو وہاں بھی برابر اور یکجا کردے جیسے وہ یہاں یکجاتھے۔سبحان اﷲ! بڑی پیاری دعا کی۔

۵؎ یعنی اس شخص کو جو یہ سات دن زیادہ مل گئے ان دونوں میں اس نے نماز روزے اور دوسری نیکیاں کیں اس لیے ان کا درجہ اس شہید سے زیادہ ہوگیا۔خیال رہے کہ یہ صاحب مرابط تھے یعنی جہاد کے لیے ہر دم تیار اور مرابط کو درجہ شہادت کا ملتا ہے لہذا شہادت میں ان شہید کے برابر ہوگئے ان سات دن کے اعمال میں ان سے بڑھ گئے،نیز بعض غیر شہید شہید سے بڑھ جاتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تلوار سے شہید نہیں ہوئے مگر شہیدوں سے افضل ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"مِنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ"صدیق کو شہید پر مقدم فرمایا۔
Flag Counter