Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
126 - 4047
باب استحباب المال و العمر للطاعۃ

اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  مال کے معنی ہیں میلان قلبی،دولت کو مال اس لیے کہتے ہیں کہ عمومًا انسان کا دل اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔عمر کے معنی ہیں آبادی اسی لیے بستی کو عمران کہا جاتا ہے اور ویرانہ کو خراب۔زندگی کے زمانہ کو عمر اس لیے کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں روح جسم کو آباد رکھتی ہے اس میں رہتی بستی ہے لہذا وہ زمانہ عمر ہے۔مقصد یہ ہے کہ عمر اور مال اگر اللہ کی راہ میں صرف ہوں تو اچھی چیزیں ہیں۔گزشتہ باب میں اس مال و زندگانی کی برائی بیان ہوئی جو غفلت یا سرکشی میں صرف ہو۔
حدیث نمبر 126
روایت ہے حضرت سعد سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی پرہیزگار بے نیاز پوشیدہ بندے کو پسند فرماتا ہے۔(مسلم)اور حضرت ابن عمر کی حدیث کہ نہیں ہے رشک۲؎ مگر دو چیزوں میں فضائل قرآن کے باب میں بیان کردی گئی۳؎
شرح
۱؎ سعد سے مراد حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں۔محدثین جب عبداﷲ بولتے ہیں تو حضرت عبداﷲ ابن مسعود مراد ہوتے ہیں اور جب سعد مطلق بولتے ہیں تو سعد ابن ابی وقاص مراد ہوتے ہیں۔

۲؎ یعنی جس مسلمان میں تین صفتیں ہوں وہ خدا تعالٰی کو بڑا پیارا ہے: متقی ہو یعنی گناہوں سے بچتا ہو اور اﷲ رسول کے احکام پر عمل کرتا ہو،غنی یعنی لوگوں سے بے پرواہ ہو۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی متقی بندے کو لوگوں سے بے پرواہی نصیب فرماتا ہے،جو اس کے دروازے پر جھکا رہے اسے دوسرے دروازوں پر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی      ؎ 

وہ ایک سجدہ ہے جسے تو گراں سمجھتا ہے		ہزارسجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

خفی نقطہ والا خ سے بمعنی لوگوں میں چھپا ہوا یعنی وہ لوگوں میں اپنی شہرت نہیں چاہتا ہر نیکی چھپ کر کرتا ہے،خود بھی گمنام رہنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسی میں عافیت و آرام ہے۔خیال رہے کہ بعض بندوں کے لیے خلوت اچھی ہے بعض کے لیے جلوت بہتر،عابدوں کے لیے خلوت بہتر ہے عالموں کے لیے جلوت اچھی تاکہ لوگ ان سے فیض لیں لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرات خلفاء راشدین اور دوسرے مشہور علماء اولیاء حتی کہ حضور سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محبوب بندے ہیں مگر وہ چھپے ہوئے نہیں کیونکہ ان حضرات نے خود اپنے کو اپنی کوشش سے مشہور نہیں کیا ان کی یہ شہرت اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے،نیز ان حضرات کے لیے شہرت ہی ضروری تھی،سورج چھپنے کے لیے نہیں پیدا ہوا۔مصرع	کہ دنیا میں خدا کا نور چھپنے کو نہیں آیا۔بعض نسخوں میں حفی ہے بے نقطہ والی ح سے بمعنی مہربان یعنی لوگوں پر مہربان،بعض احادیث میں نقی نون سے بھی ہے یعنی طیب و طاہر پاک و صاف۔(اشعہ)اس حدیث کی اور بہت شرحیں کی گئیں ہیں۔

۳؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سے وہاں بیان کردی۔
Flag Counter