۱؎ یعنی مسلمان کی پہلی نیکی جو باقی نیکیوں کی جڑ ہے وہ یقین ہے اور یقین چار قسم کا ہے: (۱)جو خیر و شر ہے وہ رب تعالٰی کی طرف سے ہے (۲)جو روزی مقدر میں ہے وہ ضرور ملے گی(۳)نیک و بد اعمال کی سزا و جزا ضرور ملے گی (۴)اﷲ تعالٰی ہمارے ہر حال سے خبردار ہے،ان چاروں باتوں پر یقین رکھے تو ان شاءاﷲ بخل،حسد،کینہ بدعملی ان سب سے محفوظ رہے گا۔(اشعہ)
۲؎ یعنی مسلمان کا پہلا گناہ جو دوسرے گناہوں کی جڑ ہے وہ یہ دو چیزیں ہیں۔بخل جڑ ہے خونریزی فساد کی،لمبی امیدیں جڑ ہیں غفلت و گناہوں کی۔انسان بڑھاپے میں بھی یہ سوچتا ہے کہ ابھی عمر بہت ہے نیکیاں آئندہ کرلیں گے اسی خیال میں رہتے ہیں کہ موت آجاتی ہے۔