Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
120 - 4047
حدیث نمبر 120
روایت ہے حضرت ابو سعید سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑی اور دوسری اس کے برابر اور تیسری اس سے بہت دور ۲؎ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اﷲ رسول خوب جانیں،فرمایا یہ انسان ہے اور یہ موت ہے۳؎ مجھے خیال ہے کہ فرمایا اوریہ امید ہے انسان امیدوں میں مشغول رہتا ہے مگر اسے امید سے پہلے موت پہنچ جاتی ہے ۴؎ (شرح سنہ)
شرح
۱؎ آپ کا نام شریف سعد ابن مالک ابن سنان ہے(ترمذی ابواب البروالصلہ)آپ کے حالات شریف بیان ہوچکے ہیں۔

۲؎ یعنی تین لکڑیاں اس طرح گاڑھیں کہ دو ملی ہوئی اور تیسری بہت فاصلہ سے،آج کل اسکولوں میں عملی مشق کرائی جاتی ہے یہ عملی مشق تھی۔

۳؎ مقصد یہ ہے کہ موت انسان سے بہت قریب ہے مگر اس کی ا میدیں بہت دراز۔خیال رہے کہ انسان شخصی ضروریات میں کمی کرے مگر قومی دینی مکمل ضروریات و خدمات بہت زیادہ انجام دے کہ اشخاص مرتے ہیں قوم و دین نہیں مرجاتے۔بزرگوں نے دینی کتب لکھیں جو صدیوں سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچارہی ہیں،حضور انور نے سارا حجاز فتح فرمالیا اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ امت کے لیے دین کے لیے،اب تک ان سے فائدے پہنچ رہے ہیں۔خیال رہے کہ سکندر اعظم اور نپولین اعظم کے مفتوحہ علاقہ دوسری قوموں کے پاس پہنچ گئے،فاروق اعظم کے مفتوحہ علاقے مسلمانوں ہی کے قبضہ میں ہیں قریبًا چودہ سو سال گزر چکے ہیں روم،ایران وغیرہ۔

۴؎ یعنی انسان کی ایک امید پوری ہوئی تو دو سامنے آجاتی ہیں دو پوری ہوں تو چار سامنے آتی ہیں یہ سلسلہ یوں ہی دراز ہوتا چلا جاتاہے کہ موت آلیتی ہے۔شعر

امیدبستہ برآمد ولے چہ فائدہ زانکہ		امید نیست کہ عمر گزشتہ باز آید
Flag Counter