| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور اپنا ہاتھ اپنی گدی پر رکھا ۱؎ پھر ہاتھ دراز کیا فرمایا یہاں اس کی امید ہے ۲؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ تفاسیر کا پچھلا حصہ جسے اردو میں گدی کہا جاتا ہے پنجابی میں گھتی۔ ۲؎ یعنی موت تو سر پر کھڑی ہے اور امیدیں بہت لمبی لمبی بندھی ہوئی ہیں یہ ہم جیسے غافلوں کا ذکر ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ شعر پڑھتے تھے شعر کل امرئٍ مصبح فی اھلہ والموت اقرب من شراك نعلہ