۱؎ یہ وہ تیمم نہیں ہے جو پانی پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے نماز کے لیے کیا جاتا ہے پانی تو وہاں موجود ہے اور ابھی نماز کا وقت ہے بھی نہیں،یہ تیمم پانی تک پہنچنے کے زمانہ میں ایک گونہ پاکی حاصل کرنے کے لیے ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔غرضکہ شریعت کا تیمم اور ہے عشق و محبت یا طریقت کا تیمم کچھ اور ہے یہاں طریقت کا تیمم ہے۔(اشعہ مع الزیادۃ)
۲؎ یعنی حضور آپ کی شریعت کی رو سے یہ تیمم درست نہیں ہو ا کہ پانی پر قدرت حضور کو حاصل ہے پھر تیمم کیسا یہ ایسا ہی سوال و جواب ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام و خضر علیہما السلام میں واقع ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے سوالات شرعی تھے حضرت خضر کے جواب حقیقی تھے۔
۳؎ یہاں درایت کی نفی ہے علم کی نفی نہیں۔درایت کے معنی ہیں اٹکل،قیاس،دلیل سے جاننا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات شریف وحی سے معلوم تھی،حضور نے حج فرض ہوتے ہی حج نہیں کیا ایک سال بعد کیا کیونکہ آپ کو اپنی زندگی معلوم تھی۔یہ فرمان ہمارے لیے ہے کہ تم لوگ اپنے پر اتنا بھروسہ بھی نہ کرو کہ استنجاء کر کے قریبی پانی تک پہنچ جاؤ گے کیونکہ تمہارا علم صرف درایت سے ہے وحی سے نہیں اور زندگی وموت کے علم میں نری عقل بھی کافی نہیں۔
۴؎ صوفیاء فرماتے ہیں کہ حضور انور پر کبھی عشق کا غلبہ ہوتا تھا،کبھی شریعت کا۔حکم شرعی ظاہر فرمانے کے لیے استنجاء کرکے بغیر وضو قرآن پاک کی تلاوت کرلیتے تھے ا ور فنا فی اﷲ کے غلبہ کے وقت بغیر تیمم کیے سلام کا جواب بھی نہ دیتے تھے یہاں حضور کے دوسرے حال یعنی فنا کا ذکر ہے۔دیکھو حضرت طلحہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار پانچ آدمیوں کی دعوت کی مگر لے گئے سارے خندق والوں کو یہ ہے حال اور اپنی ملکیت کا اظہار او ر ابی اللحم کے ہاں دعوت میں ایک آدمی زیادہ چلا گیا تواس سے اجازت لی یہ تھا قال یعنی شریعت۔
۵؎ یعنی یہ حدیث امام بغوی نے شرح سنہ میں اور ابن جوزی نے اپنی کتاب کتاب الوفافی شرف المصطفی میں روایت کی۔ (مرقات)وفا اور وفاء الوفاء تاریخ مدینہ یہ اور کتب ہیں۔