روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے میں اور میری ماں کسی چیز کو مٹی سے لپیٹ رہے تھے تو فرمایا اے عبداﷲ یہ کیا ہے ۱؎ میں نے عرض کیا ایک چیز ہے جسے ہم درست کررہے ہیں فرمایا وہ کام اس سے بھی جلد آرہا ہے ۲؎ (ترمذی،احمد)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی تم تو عبداﷲ،اﷲ کے بندے ہو پھر ان آفتوں میں کیوں پھنس گئے۔(مرقات) ۲؎ یہ گھر مرمت کے لائق تھا نہیں بالکل درست تھا مضبوط کے لیے یہ سب کچھ کررہے تھے،فرمایا کہ تمہاری موت اس گھرکے فنا ہونے سے پہلے آجائے گی لہذا اس کی مرمت میں پھنس کر اپنے قلب و قالب کی مرمت سے غافل نہ ہوجاؤ،نیک اعمال قالب کی مرمت ہے اللہ کا خوف حضور سے محبت دل کی مرمت ہے اس کی کوشش کرو۔