۱؎ کندھا مراد ہے،حضور انور نے حضرت ابن عمر کا کندھا پکڑ کر یہ فرمایا۔کندھا پکڑنا قلبی فیض دینے کے لیے تھا قلبی فیض کے بغیر نصیحت اثر نہیں کرتی۔(مرقات)زبان سے قال دیا جاتا ہے نگاہ سے حال عطا کیا جاتا ہے،صرف قال بغیر حال مفید نہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
قال رابگراز مرد حال شو زیر پائے کاملے پامال شو
۲؎ غریب کہتے ہیں غریب الوطن مسافر کو اگرچہ وہ کسی جگہ چند دن ٹھہر جائے مگر عابر سبیل وہ راہگیر ہے جو کسی جگہ دوپہری گزارنے کے لیے بیٹھ جائے یہ دونوں سفر اور جنگل میں دل نہیں لگاتے تم بھی دنیا میں دل نہ لگاؤ،مسافروں کی طرح اگلی منزل کے لیے تیار رہو،دنیا منزل ہے آخرت وطن،منزل پر کچھ دیر آرام کرلو مگر غافل ہو کر سو نہ جاؤ سفر کا سامان باندھے تیار رہو،جب موت کی ریل آئے تمہیں تیار پائے ہر وقت اس کے منتظر رہو۔
۳؎ یعنی جیسے مرکر مردہ سب سے الگ ہوجاتا ہے نہ مال اس کا رہتا ہے نہ عزیز تم زندگی میں اپنا دل ان تمام سے الگ رکھو،دنیا آنے پر پھولو مت جانے پر رب کو بھولو مت،اپنے کو اللہ رسول کے قبضہ میں ایسے کردو جیسے مردہ غسال کے ہاتھ میں۔صوفیاء فرماتے ہیں موتوا قبل ان تموتوا مرنے سے پہلے مرجاؤ یا فرماتے ہیں حاسبوا قبل ان تحاسبوا حساب دینے سے پہلے اپنا حساب کرلو۔ان زریں اقوال کا ماخذ یہ حدیث شریف ہے جو مرنے سے پہلے مرجائے گا وہ پھر کبھی نہ مرے گا۔شعر
میں مروں تو جگ مرے مرے میری بلا چیلا سچے پیر کا مرے نہ مارا جائے