۱؎ یہاں دو اور تیسرا حد بندی کے لیے نہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر دو جنگل بھر مال ہو تو تیسرے جنگل کی خواہش کرے اور اگر تین جنگل مال ہو تو چوتھے کی اسی طرح سلسلہ قائم رکھے۔انسان کی ہوس زیادہ مال سے نہیں بجھتی یہ تو فضل ذوالجلال سے بجھتی ہے۔
۲؎ تراب سے مراد قبر کی مٹی ہے یعنی انسان کی ہوس قبر تک رہتی ہے مر کر ہوس ختم ہوتی ہے۔یہ حکم عمومی ہے اللہ تعالٰی کے بندے اس حکم سے علیحدہ ہیں بڑے صابر و شاکر ہیں جیسے حضرات انبیاء کرام اور خالص اولیاء اللہ مگر ایسے قناعت والے بہت کم ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے اور مٹی کی فطرت خشکی ہے اس کی خشکی صرف بارش سے ہی دور ہوتی ہے،بارش ہونے پر اس میں سبزہ پھل پھول سب کچھ ہوتے ہیں،یوں ہی اگر انسان پر توفیق کی بارش نہ ہو تو انسان محض خشکا ہے، اگر نبوت کے بادل سے توفیق و ہدایت کی بارش ہو تو اس میں ولایت تقویٰ وغیرہ کے پھل پھول لگتے ہیں۔(مرقات)
۳؎ یعنی انسان اگرچہ برائیوں کا مجموعہ ہے لیکن اگر توبہ کرکے رب کی طرف رجوع کرے تو آغوش رحمت اس کے لیے کھلا ہے۔صوفیاء کے نزدیک توبہ ہی توفیق کی بارش ہے۔خیال رہے کہ بارش سے مٹی میں باغ لگتے ہیں پتھروں میں نہیں لگتے،سخت دل آدمی نیک نہیں بن سکتا۔شعر
دربہاراں کے شود سرسبز سنگ خاک شو تاگل بروید رنگ رنگ