۱؎ اس عبارت کے دو معنی ہیں:ایک یہ اعذر کے معنی ہیں عذر دور کردیتا ہے یعنی باب افعال کا ہمزہ سلب کے لیے ہے تب مطلب یہ ہوگا کہ بچپن اور جوانی میں غفلت کا عذر سنا جاسکے گا مگر جو بڑھاپے میں اﷲ تعالٰی کی طرف رجوع نہ کرے اس کا عذر قبول نہ ہوگا کیونکہ بچپن میں جوانی کی امید تھی جوانی میں بڑھاپے کی اب بڑھاپے میں سوا موت کے اور کس چیز کا انتظار ہے،اگر اب بھی عبادت نہ کرے تو سزا کے قابل ہے اس کا کوئی بہانہ قابل سننے کے نہیں۔دوسرے یہ کہ اس اعذر کے معنی ہیں معذور رکھتا ہے یعنی جو بوڑھا آدمی بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کرسکے مگر جوانی میں بڑی عبادتیں کرتا رہا ہو تو اللہ تعالٰی اسے معذور قرار دے کر اس کے نامہ اعمال میں وہ ہی جوانی کی عبادت لکھتا ہے،ساٹھ سال پورا بڑھاپا ہے۔شعر
رسم است کہ مالکان تحریر آزاد کنند بندۂ پیر
اے بار خدائے عالم آرا برسعدی پیر خود بہ بخشا
بوڑھے نوکر کی پنشن ہوجاتی ہے وہ رؤف و رحیم رب بھی اپنے بوڑھے بندوں کی پنشن کردیتا ہے مگر پنشن اس کی ہوتی ہے جو جوانی میں خدمت کرتا رہے۔