Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
108 - 4047
حدیث نمبر 108
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے  ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر نے پانی مانگا توایسا پانی لایا گیا جو شہد سے مخلوط تھا۲؎ فرمایا یہ بہت اچھا ہے مگر میں اﷲ عزوجل کو سن رہا ہوں کہ اس نے لوگوں پر ان کی خواہشات سے عیب لگایا ۳؎ کہ فرمایا کہ تم اپنی پسندیدہ چیز اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے ان سے نفع لے چکے،میں ڈرتا ہوں ۴؎ کہ ہماری نیکیاں جلدی دے دی گئی ہوں چنانچہ آپ نے وہ نہ پیا ۵؎  (رزین)
شرح
۱؎ آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں،مدنی ہیں،تابعی ہیں،بڑے فقیہ عالم محدث اور زاہد و متقی ہیں، ۱۳۶ھ؁  ایک سو چھتیس میں وفات پائی۔(مرقات،اکمال)

۲؎  یعنی بجائے سادہ پانی کے شہد کا ٹھنڈا شربت لایا گیا۔

۳؎ یعنی اس وقت مجھے پیاس بھی ہے اور یہ شربت لذیز بھی ہے دل پینے کو بہت چاہ رہا ہے مگر مجھے یہ آیت کریمہ یاد آرہی ہے۔

۴؎ خیال رہے کہ یہ آیت کریمہ کفار کے متعلق ہے مگر حر ت عمر رضی اللہ عنہ پر اس وقت خوف الٰہی حد درجہ کا طاری تھا،خیال فرمایا کہ اس آیت کے الفاظ عام ہیں،ہوسکتا ہے کہ اس میں ہم بھی داخل ہوجاویں لہذا بہتر یہ ہے کہ اس وقت نہ پیوں۔اللہ والوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں کبھی ان پر خوف کا غلبہ ہوتا ہے،کبھی امید کا لہذا یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلہح حضرات صحابہ نے مرغ بٹیریں بھی کھائیں ہیں۔

۵؎ اس حالت میں یہ شربت چھوڑنا انتہائی زہد و تقویٰ ہے جس پر بڑا اجر ہے اور دوسرے وقت اللہ کی نعمتیں خوب کھا کر خوب شکر کرنا عبادت ہے،غرضکہ صبر کا اور وقت ہے شکر  کا  دوسرا وقت۔شعر

اگر درویش برحالے بماندے 			دوست از دو عالم برفشاندے
Flag Counter