۱؎ یہاں بھوک سے مراد ہے قابل برداشت بھوک جس سے ہلاکت نہ ہو،اس کا چھپانا اور خود کما کر پیٹ بھرنا بہتر ہے لیکن اگر بھوک سے جان نکل رہی ہے تو اس کا ظاہر کرنا کسی سے کچھ لے کر بقدر ضرورت کھالینا فرض ہے،اگر چھپائے گااور بھوکا مرجائے گا تو حرام موت مرے گا۔(مرقات)لہذا فقہاء کا یہ فتویٰ اس حدیث پاک کے خلاف نہیں حدیث کی سچی فہم ضروری ہے۔
۲؎ یہ فرمان بالکل درست ہے اور مجرب ہے اپنی فقیری چھپانے والے بفلہی تعالٰی امیر ہوجاتے ہیں کبھی جلد اور کبھی دیر سے مگر فقط چھپانے پر کفایت نہ کرے کمانے کی کوشش کرے،یہ سال بھر کی روزی آسمان سے نہیں برسے گی بلکہ اسباب سے ملے گی۔