| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم عیش پسندی سے بچنا ۱؎ اللہ کے بندے عیش و عشرت میں مشغول نہیں ہوتے ۲؎(احمد)روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اللہ کے تھوڑے رزق پر راضی ہوگا تو اللہ اس کے تھوڑے پر راضی ہوگا۳؎ (بیہقی)
شرح
۱؎ یعنی تم یمن میں گورنر بن کر جارہے ہو مگر حکام کی سی عیش و آرام کی زندگی اختیار نہ کرنا،سادہ غذا سادہ لباس رکھنا تاکہ نفس موٹا اور تم غافل نہ ہوجاؤ۔سادہ زندگی سے انسان دین و دنیا میں آرام سے رہتا ہے۔افسوس! آج مسلمان یہ سبق بھول گئے۔ہمارے کالجوں میں فیشن پرستی،زیادہ خرچ کرنا سکھایا جاتا ہے،طلباء تعلیم سے فارغ ہو کر خوب فضول خرچ بن کرنکلتے ہیں پھر مہذب ڈاکو شریف بدمعاش بنتے ہیں اور اگر نوکری مل گئی تو رشوتوں سے ملک کو ویران کرتے ہیں،ان کے خرچ اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ تنخواہ سے پورا نہیں پڑتا،رشوتوں سے خرچہ پورا کیا جاتا ہے،اگر معمولی خرچ کریں تو یہ نوبت نہ آئے۔ ۲؎ یعنی اﷲ کے بندے ہر حال میں خصوصًا امیر یا حاکم بن کر عیش پسند نہیں ہوتے،اگر حکام غافل اور عیش پسند ہوجائیں تو رعایا تباہ ملک برباد ہوگا۔اﷲ تعالٰی کفار کے متعلق فرماتا ہے:"یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الْاَنْعٰمُ"۔خیال رہے کہ اچھا کھانا اچھا پینا اور چیز ہے مگر عیش پسندی کچھ اور چیز،یوں ہی عمدہ غذا و لباس اور ہے سادہ غذا و لباس کچھ اور،اللہ دے تو اچھا کھاؤ پہنو مگر سادگی کے ساتھ اور پھر اچھے کھانے پینے کے عادی نہ ہوجاؤ کبھی پلاؤ کھاؤ،کبھی دال،کبھی چٹنی،کبھی پراٹھے اور قورمہ۔ ۳؎ خیال رہے کہ اللہ تعالٰی کی رضا دو قسم کی ہے: رضا ء ازلی،دوسری رضاء ابدی۔اللہ کی رضا ازلی ہماری رضا سے پہلے ہے جب وہ ہم سے راضی ہوتا ہے تو ہم کو نیکیوں کی توفیق ملتی ہے مگر رضا ء ابدی ہماری رضاء کے بعد ہے،جب ہم اﷲ سے راضی ہوجاتے ہیں نیکیاں کرلیتے ہیں تو وہ ہم سے راضی ہوتا ہے۔یہاں رضا ابدی کا ذکرہے اس لیے بندے کی رضا پہلے بیان ہوئی او راس آیت کریمہ میں "رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ"رضا ء ازلی کا ذکر ہے اس لیے وہاں رضاء الٰہی کا پہلے ذکر ہے۔(مرقات)حدیث کا مطلب ظاہر ہے کہ اگر تم معمولی روزی پا کر بہت شکر کرو تو رب تعالٰی تمہارے معمولی اعمال کی بہت قدر فرمائے گا۔