۱؎ حبب فرما کر بتایاکہ یہ محبت ہمارے نفس کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے،رب تعالٰی نے ان چیزوں کو ہمارا محبوب بنا دیا۔
۲؎ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے رغبت طبعی جبلی تھی،رب تعالٰی ان کے صدقہ سے ہم گنہگاروں کو بھی نصیب کرے،نماز،مسجد سے محبت ایمان کی علامت ہے۔خیال رہے کہ پہلی حدیث میں بیوی،خوشبو،کھانے کو دنیا کی چیزیں قرار دیا گیا تھا یہاں دنیا کا لفظ نہیں کیونکہ نماز دنیا کی چیز نہیں یہ خالص دینی کام ہے۔جن لوگوں نے ان تینوں کو دنیاوی کاموں میں داخل کیا ہے وہ غلط ہے اس کا ثبوت حدیث شریف میں کہیں نہیں۔(اشعۃ اللمعات)بلکہ بیویوں اور خوشبو کو دنیا فرمانا اس لیے ہے کہ ان سے تعلق دنیا میں رہتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں حضور کی خوشبوئیں دین تھیں کہ دین میں مددگار تھیں۔