| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابی ذر سے فرمایا مجھے میرے محبوب نے ۱؎ سات چیزوں کا حکم دیا ۲؎ مجھے مسکینوں سے محبت اور ۳؎ ان سے قرب کا حکم دیا ہے اور مجھے حکم دیا کہ اپنے سے ادنی کو دیکھو اور اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو ۴؎ اور مجھے حکم دیا کہ رشتوں کو جوڑوں اگرچہ وہ رشتہ دور کا ہو ۵؎ اور مجھے حکم دیا کہ کسی سے کچھ نہ مانگوں ۶؎ اور مجھے حکم دیا کہ حق بات کہوں اگرچہ کڑوی ہو ۷؎ اور مجھے حکم دیا کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو ں ۸؎ اور مجھے حکم دیاکہ یہ زیادہ کہا کروں نہیں ہے طاقت اور نہ قوت مگر اللہ سے کیونکہ یہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے ۹؎ (احمد)
شرح
۱؎ خلیل سے مراد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔خلیل وہ جس کی محبت دل کے اندرون میں داخل ہوجاوے۔یہ بنا ہے خلۃ سے بمعنی کشادگی،دل کی کشادگی بھردینے والی محبت خلۃ ہے،خلیل وہ جو محبوب بھی ہو مطاع بھی،خلیل کے بہت معنی ہیں یہاں بمعنی محبوب ہے۔ ۲؎ یہ حکم استحبابی ہے اور سارے مسلمانوں کو ہے حضرت ابوذر کی معرفت،ہوسکتا ہے کہ حکم وجوبی ہو اور حضرت ابوذر کے لیے خاص ہو۔ ۳؎ مساکین کے معنی ابھی عرض ہوچکے۔دل میں نخوت وغرور نہ ہو لہذا اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت بلال سے تو محبت ہو اور حضرت عثمان غنی سے محبت نہ ہو۔قرب سے مراد دلی قرب ہے یا جسمانی قرب یعنی مساکین کی صحبت میں رہنا ،مساکین کی صحبت دل میں مسکینیت پیدا کرتی ہے۔ ۴؎ یعنی دنیاوی مال و متاع عزت وجاہ میں اپنے سے کم حیثیت والوں کو دیکھو جیساکہ پہلے عرض کیا گیا،دینی کاموں میں اپنے سے زیادہ کو دیکھنا چاہیے جیساکہ گزر چکا۔ ۵؎ رشتوں سے مراد رشتہ دار ہیں،جوڑنے سے مراد ہے ان سے اچھا سلوک کرنا،ان کی بدسلوکی پر نظر نہ کرنا،اس کی تفسیر ہے حضرت یوسف علیہ السلام کا برتاؤ اپنے بھائیوں سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاوا فتح مکہ کے بعد قریش سے۔ ۶؎ کسی سے مراد دنیا دار لوگ ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگنا ہر ایک کے لیے فخر ہے،حضور کا دروازہ وہ ہے جہاں بادشاہ بھیک مانگتے ہیں۔شعر منگتے تو ہیں منگتے کوئی شاہوں میں دکھادو جس کو مری سرکار سے ٹکڑا نہ ملا ہو ۷؎ اپنے متعلق اور دوسروں کے متعلق ہمیشہ حق بات کہو،اپنا قصور ہو تو فورًا مان لو،اپنے متعلق حق کہنا بہت مشکل ہے۔کڑوی سے مراد ہے اپنے پر کڑوی یا دوسرے پر کڑوی۔ ۸؎ یعنی دنیاوی وجاہت والے کا خوف مجھے حق کہنے سے نہ روکے۔رہے اللہ والے لوگ اگر کبھی ان کا کوئی عمل بظاہر خلاف معلوم ہو تو اعتراض کرنے میں جلدی نہ کرے بہت دفعہ ان کے بعض اعمال غلط معلوم ہوتے ہیں مگر درحقیقت بالکل درست ہوتے ہیں جیسے رمضان میں حضرت بایزید بسطامی کا لوگوں کے سامنے روٹی کا ٹکڑا کھالینا بالکل حق تھا کہ آپ مسافر تھے اس ذریعہ سے لوگوں کو اپنی عقیدت سے ہٹاد یا،حضرت خضرو موسیٰ علیہما السلام کا واقعہ تو قرآن کریم میں مذکور ہے۔ ۹؎ یعنی لاحول شریف جنت کی اعلٰی نعمت ہے جو عرش اعظم کے نیچے محفوظ ہے،عرش اعظم جنت الفردوس کی چھت ہے،اس کی برکت سے دل کو چین روح کو خوشی نصیب ہوتی ہے،اس میں بندہ اپنی قوت و طاقت سے الگ ہو کر اللہ کی قوت و طاقت پر بھروسہ کرتا ہے۔وسوسہ کی بیماری کے لیے یہ عمل مجرب ہے کہ بعد نماز فجر و مغرب لاحول شریف ۷،۷ بار پانی پر دم کرکے پانی پی لیا کرے ان شاءاﷲ یہ بیماری جاتی رہے،تیسرے کلمہ کا یہ جز ہے تیسرے کلمہ کی عظمت معلوم ہے۔