| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ اس حالت میں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور مہاجرین فقراء کا ایک حلقہ بیٹھا تھا ۱؎ کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضور ان کی طرف ہی بیٹھے میں بھی انہیں کی طرف اٹھ گیا ۲؎ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فقراء مہاجرین اس کی خوشی منائیں جو ان کے چہروں کو کھلا دے ۳؎ کہ وہ جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے،فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے رنگ دیکھے چمک سے کلئ گئے تھے ۴؎ عبداللہ ابن عمرو فرماتے ہیں کہ حتی کہ میں نے آرزو کی کہ میں ان کے ساتھ یا ان میں سے ہوجاؤں ۵؎ (دارمی)
شرح
۱؎ یعنی فقراء مہاجرین حلقہ بنائے بیٹھے تھے ۔خیال رہے کہ مسجد میں نماز کے انتظار میں صفیں بنا کر بیٹھنا چاہیے اسی صورت میں حلقے بنانا ممنوع ہے مگر ذکر یا تلاوت قرآن کے لیے حلقے بنا کر بیٹھنا چاہیے۔نمازی لوگ مقربین فرشتوں کی مثل ہوتے ہیں، مقرب فرشتے صف بسۃ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور ذاکرین لوگ جنیا لوگوں کے مشابہ ہیں جنی لوگ حلقے بنا کر بیٹھا کریں گے، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ"یہ حضرات اس وقت ذکر یا علمی باتیں کررہے تھے۔قعود جمع ہے قاعد کی جیسے رقود جمع راقد کی یا وقود جمع واقد کی۔ ۲؎ میں تومسجد کے اور کنارہ پر تھا وہ حضرات دوسرے کنارے پر،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف نہ لائے ان کے پاس بیٹھے تو میں بھی وہاں ہی پہنچ گیا۔ ۳؎ یعنی ابھی تمہارے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں ہم تمہیں وہ خوشی کی خبر سناتے ہیں جس سے تمہارے چہرے خوشی سے کھل جاویں۔شعر اس کی باتوں کی لذت پر دائم درود اس کے خطبہ کی ہیبت پہ لاکھوں سلام ۴؎ اسفرت بنا ہے اسفرار سے بمعنی چمکنا،رب تعالٰی فرماتاہے:" وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ"۔ ۵؎ یعنی ہمیشہ ان فقراء میں سے ہی رہوں کبھی امیر نہ بنوں،اس فرمان عالی کی شرح پہلے کی جاچکی ہے۔