Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
100 - 4047
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 100
روایت ہے حضرت ابوعبدالرحمن حبلی سے  ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ ابن عمرو کو سنا ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہم فقراء مہاجرین سے ۲؎ نہیں ہیں تو اس سے عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تیری بیوی ہے جس کی طرف تو رجوع کرے وہ بولا ہاں،فرمایا کیا تیرے پاس گھر ہے جس میں تو رہے بولا ہاں، فرمایا تب تو تو امیروں میں سے ہے ۳؎ وہ بولا کہ میرے پاس غلام بھی ہے فرمایا تو تو بادشاہوں سے ہے ۴؎ عبدالرحمن کہتے ہیں ۵؎ کہ تین شخص حضرت عبداللہ ابن عمرو کے پاس آئے میں انکے پاس تھا ۶؎ انہوں نے عرض کیا اے ابو محمد اﷲ کی قسم ہم کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے نہ خرچہ پر نہ گھوڑے پر نہ اور سامان پر ۷؎ تو آپ نے ان سے فرمایا تم جو چاہو ۸؎ اگر چاہو تو ہمارے پاس پھر آنا ہم تم کو وہ دیں گے جو اﷲ نے تمہارے لیے میسر فرمایا ۹؎ اگر چاہو تو ہم تمہاری حالت کا ذکر بادشاہ سے کریں ۱۰؎ اگر چاہو صبرکرو ۱۱؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے پہنچیں گے ۱۲؎ تو  وہ بولے کہ ہم صبرکریں گے کچھ نہ مانگیں گے ۱۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ آپ کا نام عبداللہ ابن زید ہے،تابعی ہیں،مصری ہیں،ابو ایوب انصاری،ابو ذر غفاری،عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے،افریقہ میں  ۱۰۰ھ؁  میں وفات پائی،بڑے متقی عالم زاہد تھے۔

۲؎ یعنی جن فقراء کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ  وہ امیروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں جائیں گے  میں بھی ان فقراء سے ہوں اور جو بشارتیں حضور نے مہاجرین کےلیے دی ہیں میں بھی ان مہاجرین میں سے ہوں مجھ میں یہ دونوں وصف جمع ہیں۔

۳؎   یعنی ان فقراء مہاجرین کے پاس نہ بیوی تھی نہ رہنے کا مکان اس فقرو فاقہ پر وہ قانع تھے تو تو ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے۔

۴؎ رب تعالٰی فرماتاہے:"وَجَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا"اے اسرائیلیو تمہیں اللہ نے بادشاہ بنایا۔وہاں ملوك کے معنی کیے گئے ہیں گھر بار اور نوکر خادم والا،بنی اسرائیلی رو سے اسے ملک کہتے تھے جس کے پاس بیوی گھر اور نوکر ہوتا تھا۔

۵؎ کاتب نے عبدالرحمن لکھا،صحیح ہے ابو عبدالرحمن۔

۶؎ ان آنے والوں کے نام معلوم نہ ہوسکے،غالبًا یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے اور یہ لوگ حضرت عبداللہ ابن عمرو سے کچھ مانگنے آئے تھے۔

۷؎ نفقۃ سے مراد نقد رقم ہے درہم دینار،دابۃ سے مراد جہاد کے لیے گھوڑا ہے اور متاع سے مراد دوسرا سامان جسے فروخت کرکے گزارہ کرلیا جائے۔(مرقات)ان لوگوں نے اپنی فقیری تو  بیان کردی صراحۃً سوال نہ کیا یہ بھی مانگنے کا ایک طریقہ ہے۔ مانگنے کے تین طریقے ہیں: صراحۃً مانگنا  ہمیں یہ دے دو،اپنی فقیری بیان کرنا ،سامنے والے کی سخاوت بیان کرکے اس کے بال بچوں کو دعائیں دینا،آخری طریقہ بہت کامیاب ہے اس طرح کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے اس لیے درود شریف پڑھنا بہترین دعا ہے،اگر کوئی شخص ساری دعائیں چھوڑکر صرف درود شریف پڑھا کرے ان شاءاﷲ دعائیں مانگنے والوں سے زیادہ پائے گا۔

۸؎ یعنی جو تم چاہو میں وہ ہی کروں۔ہوسکتا ہے کہ ما ا ستفہامیہ ہو یعنی تم کیا چاہتے ہو بتاؤ،مرقات نے پہلے معنی کیے،اشعۃ اللمعات نے دوسرے معنی۔

۹؎ یعنی ابھی تو ہمارے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ ہے نہیں پھر کسی اور وقت آنا ان شاءاﷲ جو ممکن ہوگا ہم تم کو دیں گے حضرات صحابہ بہت سخی تھے۔

۱۰؎ یہاں بادشاہ سے مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں اس وقت آپ ہی بادشاہ تھے۔(اشعہ)آپ کی سخاوت اور امیری ضرب المثل بن چکی تھی،حضرات اہل بیت اطہار خصوصًا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو بیک وقت پانچ پانچ لاکھ دینار نذرانہ دیئے ہیں،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔مطلب یہ ہے کہ ہم تمہاری سفارش امیر معاویہ سے کردیں وہ تم کو بیت المال سے مالا مال کردیں یا تم کو کسی محکمہ میں ملازم رکھ لیں۔

۱۱؎ اس طرح کہ نہ ہم سے مانگو نہ امیر معاویہ کے خزانہ سے کچھ لو،اپنی اس فقیری پر راضی رہو،اپنے ہاتھ کی کمائی سے گزارہ کرو۔ صبر یا توکل کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاوے غیبی دستر خوان کا انتظار کرتا رہے،رب تعالٰی نے ہاتھ پاؤں دیئے ہیں کمانے کے لیے ان سے مال اور اعمال دونوں کماؤ۔شعر 

گر توکل مے کنی دو کارکن 		کسب کن بس تکیہ بر جبار کن

۱۲؎ یہاں مالداروں سے مراد ہیں مہاجرین مالدار یعنی فقراء مہاجرین امراء مہاجرین سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے تو دوسرے امیروں سے تو بہت ہی پہلے جائیں گے۔(مرقات)غالبًا یہ لوگ کسی اور جگہ کے مہاجر تھے مکہ معظمہ سے ہجرت فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی تھی اور مہاجرین  مکہ فاروقی و عثمانی خلافتوں میں مالا مال ہوچکے تھے یہ لوگ کسی اور کافر ملک کے مہاجر ہوں گے۔و اللہ اعلم!

۱۳؎ یعنی ہم اب نہ تو آپ سے کچھ مانگیں گے نہ بادشاہ اسلام سے نہ کسی اور سے،ہم اس فرمان عالی پر عمل کرکے اپنے کمائے پر قناعت کریں گے تا قیامت حضور کے فرمان عالی میں اثر ہے ان فرمانوں کے اثر سے ہی آج ایمان،عرفان،شریعت و طریقت کا بقا ہے۔
Flag Counter