روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جوکسی قوم کا مہمان ہو پھر مہمان محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا لازم ہے ۱؎ یہاں تک کہ وہ اپنی مہمانی اس کے مال اور کھیت سے حاصل کرے۲؎ دارمی اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جو شخص کسی قوم کا مہمان بنے پھر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کرے تو اسے حق ہے کہ اپنی مہمانی کی مقدار لے لے۔
شرح
۱؎ اس طرح کہ میزبان اسے مہمان نہ بنا ئے اسے کھانا نہ دے تو اس کے پڑوس کے مسلمان اس میزبان کو سمجھا بجھا کر یا برا بھلا کہہ کر اس سے کھانا دلوادیں۔ ۲؎ یعنی اگر سمجھانے بجھانے پربھی میزبان اس مہمان کا حق نہ دے تو دوسرے مسلمان اس مہمان کی مدد کریں کہ وہ میزبان کے مال و کھیت میں سے ایک دن کے کھانے کے بقدر وصول کرے۔اس حدیث کے دو ہی مطلب ہیں جو ابھی کچھ پہلے حضرت عقبہ ابن عامر کی روایت کی شرح میں عرض کیے گئےکہ یہ مہمان سے مراد مسلمان مہمان اور میزبان سے مراد ہے وہ کافر جماعت جس سے اس شرط پر صلح کی گئی تھی کہ ہمارے مسلمان مہمان کو کھانا دیا کریں یا وہ مہمان مراد ہے جو بھوک سے مررہا ہو دوسرے کے پاس کھانا ہو وہ اسے مرتے ہوئے دیکھے اور کھانا نہ دے ایسی مجبوری میں وہ جبرًا اس کے مال سے کھاسکتا ہے ورنہ بغیر ان حالات کے کسی کا مال جبرًا لینا جائز نہیں۔حضرت خضرو موسیٰ علیہما السلام انطاکیہ والوں پر گئے تو انہوں نے میزبانی نہ کی تو ان بزرگوں نے ان سے کچھ جبرًا وصول نہ کیا جیساکہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔