Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
94 - 975
حدیث نمبر 94
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن یا ایک رات باہر تشریف لائے تو اچانک ابوبکروعمر تھے ۱؎  فرمایا اس گھڑی تم دونوں کو اپنے گھروں سے کس چیز نے نکالا عرض کیا بھوک نے ۲؎  فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے بھی اس نے نکالا جس نے تم کو نکالا۳؎  اٹھو چنانچہ وہ حضور کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۴؎ ایک انصاری صاحب کے ہاں گئے ۵؎ تو وہ اپنے گھر میں نہ تھے جب حضور کو ان کی بیوی نے دیکھا بولیں خوش آمدید اھلًا ۶؎ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا فلاں کہاں ہیں ۷؎ بولیں ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ۸؎ اتنے میں انصاری صاحب آگئے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا بولے اللہ کا شکر ہے ۹؎  آج مجھ سے بہتر مہمانوں والا کوئی نہیں۱۰؎ پھر وہ چلے تو ان کی خدمت میں ایک بڑا خوشہ لائے جس میں کچے خشک و ترکھجوریں تھیں عرض کیا اس سے کھائیے ۱۱؎  اور چھری لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا دودھ والی سے الگ رہنا۱۲؎  پھر انہوں نے ان حضرات کے لیے بکری ذبح کی ان صاحبوں نے بکری اور اس خوشہ سے کھایا پانی پیا ۱۳؎  پھر جب سیر ہوگئے اور پانی سے سیراب ہوئے۱۴؎  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب ابوبکروعمر سے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا قیامت کے دن۱۵؎ کہ تم کو تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم واپس نہ ہوئے حتی کہ تم کو یہ نعمتیں مل گئیں ۱۶؎(مسلم)۱۷؎ اور حضرت ابو مسعود کی حدیث کان رجل من الانصار باب الولیمۃ میں ذکر کی گئی ۱۸؎
شرح
۱؎ بعض روایات میں ہے کہ یہ وقت دوپہر کا تھا۔(اشعہ)

۲؎ ان حضرات کا اس وقت اپنے گھروں سے نکل پڑنا نہ تو کسی سے کچھ مانگنے کے لیے تھا نہ کہیں دعوت میں جانے کے لیے بلکہ وجہ یہ تھی کہ سخت بھوک میں کسی عبادت میں دل نہیں لگا کرتا ایسی حالت میں عبادت کرنا ایسے ہی ممنوع ہے جیسے پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت میں عبادت مکروہ ہے اس لیے یہ حضرات اپنی عبادات نوافل ترک کرکے دل بہلانے باہر آگئے۔(مرقات)

۳؎  یعنی ہم بھی اس وقت اس وجہ سے باہر تشریف لائے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنی تکلیف کو کسی پر ظاہر کرنا جب کہ ناشکری یا گھبراہٹ کے اظہار یا بے صبری کے لیے نہ ہو جائز ہے۔(مرقات)ان دونوں بزرگوں کا حضور کی خدمت میں بھوک کی شکایات کرنا ایسا ہے جیسے اولاد کا ماں باپ سے بھوک کی شکایت کرنا اور حضور انور کا یہ فرمان ان بزرگوں کی تسکین اور صبر کے لیے ہے یعنی دیکھو ہم کو بھی بھوک ہے مگر صبربھی ہے۔خیال رہے کہ ان حضرات کا اس موقعہ پر کمانے کے لیے نہ جانا حتی کہ بھوک نے پریشان کردیا دینی کام میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے تھا جو کمائی سے زیادہ اہم تھا ورنہ وہ دونوں حضرات معاش کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ یہ حضرات حضور کا دیدار کرکے سیر ہوجاتے تھے ان کی بھوک جاتی رہتی تھی جیسے قحط کے زمانہ میں مصری لوگ جمال یوسفی دیکھ کر سیر ہوجاتے تھے۔(اشعۃ اللمعات)

۴؎  دو کے لیے جمع فرمانا یا مجازًا ہے یا کبھی دو کو جمع بول دیتے ہیں۔

۵؎  یہ خوش نصیب صحابی حضرت مالک ابن تیہان ہیں۔کنیت ابو الہیشم انصاری ہیں جو بڑے وسیع باغ بہت بکریوں کے مالک تھے،چونکہ اس مہمانی میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم اصل تھے یہ دونوں حضرات حضور کے تابع تھے اس لیے اتی صیغہ واحد ارشاد ہوا۔

۶؎ اہل عرب مہمان کو دیکھ کر یہ الفاظ کہتے ہیں جیسے انگریزی میں ویل کم،فارسی میں خوش آمدید۔

۷؎ یعنی تمہارے خاوند کہاں ہیں۔معلوم ہوا کہ کبھی اپنے دوست یا خادم کے گھر خود مہمان بن جانا بھی جائز ہے مہمان کے لیے صاحبِ خانہ کا بلانا ضروری نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مالک مکان گھر میں نہ ہو تو اسکے بال بچوں کے پاس انتظار کے لیے بات چیت کرنا درست ہے جب کہ ضرورۃً ہو بغیر خلوت کے ہو۔

۸؎ یعنی ہمارے باغ میں پانی ہے مگر قدرے کھاری ہے باغ سے کچھ فاصلہ پر میٹھے پانی کا کنواں ہے وہاں سے پینے کے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔

۹؎ شمائل ترمذی میں ہے کہ یہ بات ہو رہی تھی کہ مالک ابن تیہان یعنی صاحب باغ بھی آگئے پانی کا برتن زمین پر رکھ کر حضور سے لپٹ گئے میرے ماں باپ فدا۔شعر

زشان و شوکت سلطان نہ گشت چیزے کم 		ز التفات     بمہماں       سرائے          مسکینے

کلاہ    گوشہ     مسکین   بہ      آفتاب        رسید		 کہ سایہ برسرش افگندچوں تو سلطانے

اس میں حضر ت مالک ابن تیہان کی اس عظمت کا ظہور ہے کہ سبحان اللہ! حضور انور نے ان کے گھر کو اپنا تصور فرماکر وہاں تشریف ارزانی فرمائی۔خیال رہے کہ آپ بیعت عقبہ اولٰی میں شریک ہوئے،بارہ نقیبوں میں آپ بھی تھے،بدرواحد اور تمام غزوات میں شریک رہے۔

۱۰؎  یعنی آج معراج کا دولہا عرش اعظم کا مہمان میرے گھر کیسے کرم فرما ہوگیا،میں اپنے مقدر پر جس قدر ناز کروں کم ہے،آج میرا باغ رشک خلد بریں بلکہ رشک عرش بریں ہے۔

۱۱؎  فورًا چادر بچھائی بڑا سا خوشہ کھجور کا حاضر لائے۔بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے فرمایا صرف رطب کھجوریں ہی کیوں نہ لائے،عرض کیا کہ میں ہر قسم کی کھجوریں حاضر لایا ہوں تاکہ جو پسند خاطر ہو وہ ملاحظہ کریں۔

۱۲؎  یعنی دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا۔بعض بزرگ دودھ والی گائے بکری بھینس کی قربانی نہیں کرتے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اگرچہ فرمان عالی بطور مشورہ تھا مگر حضور کے مشورہ پرعمل بھی بہت ہی اچھا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کو پہلے کچھ پھل کھلانا پھر کھانا پیش کرنا سنت صحابی ہے،بعد کھانے کے پھل پیش کرنا بھی سنت ہے جس کی روایات گزرچکیں۔

۱۳؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور انور نے دوبارہ کھجوریں کھائیں۔کھانے سے پہلے بھی اور کھانے کے بعد بھی۔

۱۴؎  نووی نے فرمایا کہ شکم سیرکو کھانا پینا جائز ہے جن احادیث میں اس سے ممانعت آتی ہے وہاں ہمیشہ سیر ہوکر کھانا مراد ہے۔

۱۵؎  کہ تم نے ان نعمتوں کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بھوک و پیاس کی حالت میں ایسی نعمتیں عطا فرمائیں۔ لتسئلن مخاطب کے صیغہ سے اشارۃً معلوم ہوا کہ قیامت میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے حساب نہ لیا جائے گا کہ حضور کا ہر عمل تعلیم و تبلیغ کے لیے تھا آپ کا حساب نہیں بلکہ بلا حساب اجروثواب بے حساب عطا ہوگا صلی اللہ علیہ وسلم۔

۱۶؎  یعنی قیامت میں تم سے سوال یہ ہوگا کہ تم نے ان نعمتوں کا شکریہ ادا کیا یا نہیں اگر کیا تو وہ کیا تھا یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے سوال یہ ہوگا کہ ہماری فلاں فلاں نعمتیں تم نے کھائیں یا نہیں۔غرضیکہ سوال توبیخ اور ہے سوال تعداد کچھ اور مرقات نے یہ دوسرے معنی اختیار فرمائے کہ یہ سوال سوال احترام ہوگا ناکہ سوال توبیخ کہ سوال تو بیخ یا کفار سے ہوگا یا غافلوں ناشکروں سے۔

۱۷؎  اس حدیث کا تتمہ بھی عنقریب آرہا ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو الہیثم سے فرمایا کہ جب ہمارے پاس غلام آویں تو تم آنا ہم تم کو ایک غلام عطا فرمائیں گے کچھ روز بعد دو غلام حضور کی بارگاہ میں لائے گئے تب ابو الہیثم حاضر بارگاہ ہوئے حضور انور نے فرمایا ان میں سے ایک لے لو۔عرض کیا حضور آپ ہی انتخاب فرماکر ایک عطا فرمادیں فرمایا لے جاؤ یہ نمازی ہے اس سے برتاؤ اچھا کرنا۔چنانچہ ابوالہیثم اس غلام کو گھر لائے اور اسے آزاد کردیا۔

۱۸؎  یعنی ابو مسعود کی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے باب الولیمۃ میں نقل کیا۔
Flag Counter