| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا آپ ہم کو بھیجتے ہیں ۱؎ توہم ایسی قوم پراترے ہیں جو ہماری مہمانی نہیں کرتی تو حضور کیا حکم دیتے ہیں۲؎ تب ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم پر اترو پھر وہ تمہارے لیے وہ دیں جو مہمانوں کے لیے مناسب ہے تو قبول کرلو۳؎ اگر نہ کریں تو ان سے مہمان کا وہ حق لے لو جو مہمانوں کو مناسب ہے۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ جہاد کے لیے یا کسی جگہ نمائندہ بناکر نمائندگی کرنے کے لیے۔ ۲؎ یعنی راستے میں منزل بہ منزل ٹھہرتے ہوئے جاتے ہیں ہم کو کھانے پینے کی بھی ضرورت ہوتی ہے،وہاں کے باشندے بے مروتی کرتے ہوئے ہماری بات بھی نہیں پوچھتے۔ ۳؎ ضیف واحد و جمع دونوں کو کہا جاتا ہے،قرآن کریم میں ہے"ضَیۡفِ اِبْرٰہِیۡمَ الْمُکْرَمِیۡنَ"۔ ۴؎ یہ فرمان عالی تو اس کافر قوم کے متعلق ہے جن سے مسلمانوں کا معاہدہ ہوتا تھا کہ ہماری فوج کو تمہیں راشن دینا ہوگا،اب اگر وہ یہ وعدہ پورا نہ کریں تو جبرًا پورا کرایا جائے یا حالت مخمصہ کا ذکر ہے جب کہ مسافر بھوک سے مررہا ہو تو جبرًا دوسرے سے مال لےکر بقدرضرورت کھاسکتا ہے،ورنہ دوسرے کا مال بغیر اس کی رضا مندی استعمال کرنا جائز نہیں۔(مرقات)لہذا یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ"نہ ان احادیث کے خلاف ہے جن میں ڈکیتی اور کسی کا مال چھین لینے سے منع فرمایا گیا۔بعض نے فرمایا کہ یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب کہ امیروں پر فقیروں کی دستگیری واجب،بعض شارحین نے فرمایا کہ ایک دن کی مہمانی میزبان پر واجب ہے،وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں مگر جمہور کا یہ قول نہیں اور ان شارحین کایہ استدلال کمزور ہے،اگر مہمانی واجب بھی ہو تو یہ جبرًا اس سے وصول کرنا کیسے درست ہوا،زکوۃ دینا مالداروں پر فرض ہے مگر فقراء کو حق نہیں کہ ان کا مال جبرًا چھین لیں۔