۱؎ آپ کا نام خویلد ابن عمرو ہے،عدوی ہیں،قبیلہ بنی کعب سے ہیں،فتح مکہ کے دن بنی کعب کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا،مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۲؎ ہمارا مہمان وہ ہے جو ہم سے ملاقات کے لیے باہر سے آئے خواہ اس سے ہماری واقفیت پہلے سے ہو یا نہ ہو۔ جو ہمارے اپنے ہی محلہ یا اپنے شہر میں سے ہم سے ملنے آئے دوچار منٹ کے لیے وہ ملاقاتی ہے مہمان نہیں اس کی خاطر تو کرو مگر اس کی دعوت نہیں ہے اور جو ناواقف شخص اپنے کام کے لیے ہمارے پاس آئے وہ مہمان نہیں جیسے حاکم یا مفتی کے پاس مقدمہ والے یا فتویٰ والے آتے ہیں یہ حاکم کے مہمان نہیں۔
۳؎ حضرت لیث اس کی بناء پر فرماتے ہیں کہ مہمان کو ایک شب کھانا کھلانا واجب ہے اگر نہ کھلائے گا تو گنہگار ہوگا۔جائزہ کے معنی ہیں عطیہ ہدیہ،اس کی جمع ہے جوائز جیسے فاضلہ کی جمع فواضلہ یعنی مہمان کا مضبوط و پختہ حق۔
۴؎ اگر صاحب خانہ خود ہی بخوشی روکے تو رک جانے میں حرج نہیں لیکن اس پرتنگی ہو اور مہمان ڈٹا رہے یہ بے غیرتی بھی ہے اور مسلمان کو تنگ کرنا بھی یہ ممنوع ہے۔یہ قوانین آج عیسائیوں نے اختیار کرلیے ہیں، انکے ہاں مہمان پہلے ہی خط لکھ دیتا ہے کہ میں اتنے روز کے لیے آپ کے ہاں آرہا ہوں،پھر جب وہ دن گزر جاتے ہیں اور یہ مہمان کسی وجہ سے ٹھہرتا ہے تو صاحبِ خانہ کو ان زائد دنوں کا بل ادا کرتا ہے۔