۱؎ یعنی جس کے دل میں رائی برابر نور ایمانی ہو وہ ہمیشہ رہنے کے لیے دوزخ میں نہیں جاوے گا لہذا حدیث واضح ہے۔ایمان سے مراد نتیجہ ایمان ہے اور آگ میں جانے سے مراد ہمیشگی کے لیے جانا ہے،ایمان میں زیادتی کمی ناممکن ہے نور ایمان میں ممکن ہے۔
۲؎ اس فرمان عالی کے چند معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی برابر کفر ہو وہ جنت میں ہرگز نہ جاوے گا۔کبر سے مراد اللہ و رسول کے سامنے غرور کرنا یہ کفر ہے۔دوسرے یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی کے برابر غرور ہوگا وہ جنت میں اولًا نہ جائے گا۔تیسرے یہ کہ جس کے دل میں رائی برابر غرور ہوگا وہ غرور لے کر جنت میں نہ جائے گا پہلے رب تعالٰی اس کے دل سے تکبر دور کردے گا پھر اسے جنت میں داخل فرمائے گا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ"۔