Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
927 - 975
حدیث نمبر 927
حضرت حارثہ ابن وہب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کیا میں تمہیں جنتی لوگ نہ بتاؤں ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاوے ۱؎  اگر وہ اللہ پر قسم کھا جاوے تو اللہ اس کی قسم پوری کردے ۲؎ کیا میں تمہیں آگ والے نہ بتاؤں ہر سخت دل بدکار متکبر۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ہر سخت دل حرامی۴؎ غرور والا۔
شرح
۱؎ یہاں ضعیف کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تکبر جبر ظلم نہ ہو،یہ مطلب نہیں کہ اس میں طاقت و قوت نہ ہو،اللہ تعالٰی کو قوی اور طاقتور مسلمان پسند ہیں یعنی اس میں طاقت تو ہو مگر وہ اپنی طاقت مسلمانوں پر استعمال نہ کرے اور متضعف کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کو اس پر امن ہو کہ یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا،اس کے شر سے مسلمان اپنے کو محفوظ سمجھیں،یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اسے ذلیل و خوار سمجھیں،مسلمان بڑی عزت والا ہوتا ہے۔اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے"اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ"۔

۲؎  مثلًا اگر وہ کہہ دے کہ قسم خدا کی تیرے بیٹا ہوگا یا قسم خدا کی آج بارش آوے گی یا قسم خداکی اس اسلامی لشکر کو فتح ہوگی تو  اللہ تعالی اس کی قسم ضرور پوری فرماوے، ضرور اس کے بیٹا ہو، ضرورآج بارش آوے، ضرور لشکر اسلام کو فتح ہو۔خیال رہے کہ پہلے تو بندہ اللہ تعالٰی کی رضا چاہتا ہے پھر ایک وقت وہ آتا ہے کہ اللہ تعالٰی بندے کی رضا چاہتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کے متعلق فرمایا:"وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی"اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے فرمایا:"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"۔معلوم ہوا کہ بزرگوں سے اللہ کی نعمتیں مانگنا جائز ہے کہ ان کے منہ سے نکلی بات اللہ تعالٰی پوری کرتا ہے۔

۳؎ عتل کے بہت معنی ہیں: سخت دل،بدزبان،جھگڑالو،یوں ہی جواظ کے بہت معنی ہیں: موٹا فربہ، بدکار، فاسق بخیل جو اپنا مال چھپائے دوسروں کے مال پر نظر رکھے۔(مرقات)یہاں سارے معنی درست ہیں۔

۴؎  زنیم بنا ہے زنم سے یعنی کان کٹی بکری جس کا کان کٹ کر لٹک رہا ہو۔اصطلاح میں زنیم حرامی کو کہتے ہیں کہ یہ شخص بھی دوسری قوم سے ملحق ہوتاہے جیسے ولید بن مغیرہ،یہاں زنیم بمعنی شریر ولئیم ہے جس کے شر سے مسلمان پریشان ہوں،اکثر دیکھا گیا ہے کہ حرامی بچے بڑے شریر و خبیث ہوتے ہیں۔ (مرقاۃ) بعض لوگ کہتے ہیں کہ حرامی جنت میں نہیں جاوے گا اس کی کوئی اصل نہیں،ہاں جو حرامیوں کے سے کام کرے وہ جنت میں اوّلًا نہ جاوے گا۔(ازمرقات)علماء فرماتے ہیں کہ حرامیوں کی نسل میں کوئی ولی نہیں ہوتا۔
Flag Counter