Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
929 - 975
حدیث نمبر 929
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت میں وہ نہ جاوے گا جس کے دل میں ذرہ برابر غرور ہو ۱؎  تو ایک شخص نے عرض کیا کہ کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اس کا جوتا اچھا ہو۲؎  فرمایا کہ اللہ تعالٰی جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۳؎ غرور حق کو جھٹلانا لوگوں کو ذلیل سمجھنا ہے(مسلم)۴؎
شرح
۱؎ اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا۔خیال رہے کہ آگ میں کبروغرور ہے خاک میں عجز و انکساری،دیکھ لو باغ کھیت خاک میں لگتے ہیں آگ میں نہیں لگتے،ایسے ہی ایمان و عرفان کا باغ خاک جیسے عاجز و منکسر دل میں لگتے ہیں آگ جیسے متکبر دل میں نہیں لگتے ہیں۔

۲؎  سائل سمجھا کہ شاید اچھا لباس پہننا بھی غرور میں داخل ہے کہ اس میں اپنی مالداری یا بڑائی کا اظہار ہے اس لیے اس نے یہ سوال کیا،نیز اکثر متکبرین اعلیٰ درجہ کا لباس پہنتے ہیں تو یہ عمدگی لباس متکبرین کی علامت ہے بہرحال سوال بالکل درست ہے۔

۳؎  یعنی رب تعالٰی ذات و صفات میں اچھا ہے،جمیل ہےمخلوق اس کی صفات کی مظہر ہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اپنی عادات،صورت،لباس،اعمال اچھے رکھے تاکہ رب تعالٰی کی صفت جمیل کا مظہر بنے،نیز اس لباس میں رب تعالٰی کی نعمت کا اظہار ہے جو محبوب ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ"اسے تکبر سے کوئی تعلق نہیں۔

۴؎  یعنی متکبر وہ ہے جو کسی معمولی انسان کی حق بات کو اس لیے جھٹلائے کہ یہ اس آدمی کے منہ سے نکلی ہے اور مساکین کو ذلیل سمجھے۔
Flag Counter