Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
926 - 975
باب الغضب و الکبر

غصہ اورغرور کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ غضب یعنی غصہ نفس کے اس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دفع کرنے پر ابھارے۔غصہ اچھا بھی ہے اور برا بھی،اللہ کے لیے غصہ اچھا ہے جیسے مجاہد غازی کو کفار پر یا کسی واعظ عالم کو فساق و فجار پر یا ماں باپ کو نافرمان اولاد پر آوے اور برا بھی ہوتا ہے جیسے وہ غصہ جو نفسانیت کے لیے کسی پر آوے۔اللہ تعالٰی کے لیے جو غضب کا لفظ آتا ہے وہاں غضب کے معنی ہوتے ہیں ناراضی و قہر کیونکہ وہ نفس و نفسانیت سے پاک ہے۔کبر کا معنی ہے عجب یعنی بڑائی اپنی ذات و صفات کو اچھا جاننا اس کے اظہار کا نام تکبر ہے،اس کا مقابل تواضع و انکسار ہے۔تکبر اچھا بھی ہے اور برا بھی،مسلمان کا اپنے کو کفار سے اچھا جاننا اور انہیں حقیر سمجھنا کہ ان کی ہیبت ہمارے دل میں نہ آئے یہ اچھا تکبر ہے،مسلمان بھائی سے اپنے کو بڑا سمجھنا انہیں ذلیل و حقیر سمجھنا یہ برا ہے۔نبی کے مقابلہ میں تکبر کفر ہے جیسے شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقابلہ میں تکبر کیا تو کافر ہوا،اللہ تعالی کی صفت ہے متکبر وہاں اس کے معنی بہت بڑا،بہت ہی عالی و اونچا۔
حدیث نمبر 925
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ مجھے وصیت فرمایئے فرمایا غصہ نہ کیا کرو اس نے یہ سوال بار بار دہرایا حضور نے یہ ہی فرمایا غصہ نہ کیا کرو ۱؎ (بخاری)
شرح
۱؎ شاید یہ سائل غصہ بہت کرتا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ و سلم حکیم مطلق ہیں ہر شخص کو وہ ہی دوا بتاتے ہیں جو اس کے لائق ہیں۔نفسانی غضب و غصہ شیطانی اثر ہے اس میں انسان عقل کھو بیٹھتا ہے،غصہ کی حالت میں اس سے باطل کام و کلام سرزد ہونے لگتے ہیں۔غصہ کا علاج اعوذ باللہ پڑھنا ہے یا وضو کرلینایا یہ خیال کرلینا کہ اللہ تعالٰی مجھ پر قادر ہے۔رحمانی غضب عبادت ہے"فَرَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبٰنَ اَسِفًا"یا جیسے "غَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ"۔
حدیث نمبر 926
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی شخص کشتی سے پہلوان نہیں ہوتا ۱؎  پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے کو قابو میں رکھے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کیونکہ یہ جسمانی پہلوانی فانی ہے اس کا اعتبار نہیں دو دن کے بخار میں پہلوانی ختم ہوجاتی ہے۔

۲؎  کیونکہ غصہ نفس کی طرف سے ہوتا ہے اور نفس ہمارا بدترین دشمن ہے،اس کا مقابلہ کرنا،اسے پچھاڑ دینا بڑی بہادری کا کام ہے،نیز نفس قوت روحانی سے مغلوب ہوتا ہے اور آدمی قوت جسمانی سے پچھاڑا جاتا ہے، قوت روحانی قوت جسمانی سے اعلیٰ و افضل ہے لہذا اپنے نفس پر قابو پانے والا بڑا بہادر پہلوان ہے۔
Flag Counter