Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
924 - 975
حدیث نمبر 924
روایت ہے ان ہی سے ایک شخص نے جناب ابوبکرکو برا کہا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھے تعجب و تبسم فرمارہے تھے ۱؎  تو جب اس نے بہت زیادتی کی تو آپ نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا۲؎  اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے۳؎  ابوبکر حضور کے پیچھے پہنچے عرض کیا یارسول اللہ  وہ مجھے برا کہتا رہا آپ بیٹھے رہے جب میں نے اس کی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے اور کھڑے ہوگئے۴؎  فرمایا تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا ۵؎  پھر جب تم نے خود اسے جواب دیا تو شیطان پڑ گیا ۶؎  پھر فرمایا اے ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں:نہیں ہے کوئی بندہ جس پر ظلم کیا جاوے تو اللہ  کے لیے چشم پوشی کرے مگر اس کے ذریعہ اللہ اپنی مدد بڑھادے گا ۷؎  اور کوئی شخص دینے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے صلہ رحمی کا ارادہ کرے ۸؎  مگر اس سے اللہ تعالٰی زیادتی مال اور بڑھا دیتا ہے ۹؎  اور کوئی شخص مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے زیادتی کا ارداہ کرے مگر اس سے اللہ تعالٰی کمی بڑھادیتا ہے ۱۰؎ (احمد)
شرح
۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تبسم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تحمل و بردباری ملاحظہ فرماکر ان پر خوش ہونے کی وجہ سے تھا۔معلوم ہوا کہ حضور انور اپنی امت کے نیک اعمال سے بہت خوش ہوتے ہیں،ہم کو چاہیے کہ ہمیشہ نیک اعمال کیا کریں کہ حضور کو اس سے خوشی ہوتی ہے اللہ ہم کو توفیق دے کہ اپنے نبی کو خوش کرلیں ان کی خوشی ہمارے نیک بننے سے ہوگی۔

۲؎  حضرت ابوبکر صدیق کا جواب دینا بالکل جائز تھا اور ازروئے قرآن کریم بالکل حق تھا،قرآن کریم فرماتاہے: "وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنۡتَصِرُوۡنَ"اور فرماتاہے:"لَایُحِبُّ اللہُ الْجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ"جناب صدیق اکبر اس وقت مظلوم تھے لہذا آپ  پر کوئی اعتراض نہیں نہ آپ سے کوئی ناجائز کام سرزد ہوا۔

۳؎  اس ناراضی کی وجہ آگے آرہی ہے کہ ذاتی موذی سے بدلہ لینا شان صدیقی کے لائق نہیں،نیز تم یہ بدلہ اپنے خادم فرشتے کے ذمہ رہنے دو اس موذی کو تم خود کیوں منہ لگاتے ہو،مجرموں کو سزا بادشاہ اپنے ہاتھ سے نہیں دیتے بلکہ اپنے خدام سے سزا دلواتے ہیں۔

۴؎  یعنی یارسول اللہ میں نے اس پر ظلم نہیں کیا حضور پھر مجھ پر ناراض کیوں ہوئے،ظالم تو وہ ہے میں نے تو صرف بدلہ لیا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ ناراضی کسی بات کی بناء پر نہ تھی بلکہ افضلیت کی تعلیم کے لیے تھی جیساکہ آئندہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔خیال یہ بھی رہے کہ یہاں شتم بمعنی سب ہے یعنی برا کہنا بمعنی گالی نہیں اور یہ مطلب نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اسے جواب میں گالی دی آپ کی زبان مبارک جھوٹ اور گالی سے ہمیشہ محفوظ رہی۔

۵؎  اس طرح کہ جب وہ شخص تم سے کہتا تھا کہ ابوبکر آپ تو ایسے ہیں تو فرشتہ کہتا تھا ابوبکر تو اچھے ہیں تو ہی ایسا ہے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نورانی نگاہیں غیبی فرشتوں کو دیکھتی ہیں اور آپکے کان شریف فرشتوں کی آواز سنتے ہیں،یہ فرشتہ یا تو کوئی خاص فرشتہ تھا جو اس کام کے لیے مامور ہواتھا یا آپ کے ساتھ رہنے والا فرشتہ،پہلا احتمال قوی ہے۔

۶؎  یعنی اب تک تمہارا صبر رب کے لیے تھا اب تمہارا جواب دنیا نفس کے لیے ہوا یہ اگرچہ جائز ہے مگر چونکہ اس میں اپنی ذات کو اور غصہ کو دخل ہے اس لیے فرشتہ خاموش ہوگیا اور شیطان خوش ہونے لگا۔ممکن ہے کہ اب تم اس کے جواب میں زیادتی کردو اب تک وہ ظالم تھا پھر ظلم تمہاری طرف سے ہوجاوے۔(مرقات) معلوم ہوا کہ جائز کام بھی اگر نفس کے لیے ہو تو شیطان کی خوشی کا ذریعہ بن جاتاہے۔

۷؎  یعنی جو شخص اپنے حقوق مارنے والے سے چشم پوشی کرے اس پر موقعہ پاکر بھی اس سے بدلہ نہ لے تو اللہ تعالٰی اس کی مدد اور بھی زیادہ کردے گا۔بھا کا مرجع مظلمۃ ہے۔یہ بات تجربہ سے بھی ثابت ہے معافی سے عزت بڑھتی ہے بشرطیکہ معافی کمزوری کی نہ ہو اخلاق کی ہو،وہ معافی والی آیتیں منسوخ ہیں جو کمزوری کی وجہ سے ہو اخلاقی معافی کی آیتیں محکم ہیں۔

۸؎  یعنی رشتہ داروں سے سلوک کرنا صرف اللہ و رسول کی رضا کے لیے ہو اپنی ناموری کے لیے نہ ہو تو ثواب ہے اس کا فائدہ ہے۔

۹؎  صدقہ ثواب ہے اور اپنے عزیزوں و اہل قرابت پر صدقہ دوہرا ثواب ہے صدقہ کا بھی اور حق قرابت ادا کرنے کا بھی۔

۱۰؎ اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت کسی سے کچھ مانگ لینا جائز ہے صرف ضرورت کے مطابق مانگے اگر اور طرح سے ضرورت پوری ہوسکے تو نہ مانگے،اپنے پاس مال ہے اور زیادتی مال کے لیے مانگنا یہ بہرحال حرام ہے۔نصاب تین قسم کے ہیں: زکوۃ واجب ہونے کا نصاب،خیرات و زکوۃ لینے کی ممانعت کا نصاب اور سوال سے بچنے کا نصاب۔آخری نصاب بقدر ضرورت مال اپنے پاس ہونا ہے،ضرورت والا مانگے بلا ضرورت نہ مانگے،پیشہ ور گداگر ہمیشہ فقیر ہی رہتے ہیں،حاجت مند اور گداگر میں فرق کرنا چاہیے۔
Flag Counter