۱؎ امام جعفر صادق ابن امام محمد باقر تابعی ہیں،آپ کی ملاقات حضرت جابر سے ہے اور آپ تک حضور انور کا سلام پہنچا ہے۔(مرقات)آپ کا نسب نامہ والد کی طرف سے یہ ہے امام جعفر ابن امام محمد باقر ابن امام زین العابدین ابن امام حسین ابن علی مرتضٰی اور ماں کی طرف سے آپ کا نسب نامہ یہ ہے امام جعفر صادق ابن حضرت فروہ بنت قاسم ابن محمد ابن محمد ابن ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ لہذا آپ نسبًا حیدری ہیں،حسبًا صدیقی،تمام حسینی سید نسب میں حضرت علی کی اولاد ہے اور حسب میں حضرت ابوبکر صدیق کی،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ اورشجرہ انساب۔
۲؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انور کے زمانہ پاک میں آئینہ تھا اور حضور نے آئینہ میں شکل مبارک دیکھی،ہاں اکثر پانی میں چہرہ پاک دیکھ کر کنگھی وغیرہ کی ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں ہے کہ کبھی یہ عمل تھا کبھی وہ۔
۳؎ خلقی خ کے فتح سے صورت پاک اور خ کی پیش سے سیرت پاک۔حضور انور صورت میں ایسے حسین کہ اللہ تعالٰی کے محبوب ہیں اور سیرت میں ایسے بے مثال کہ رب تعالٰی نے آپ کے خلق کی تعریف فرمائی"اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ"ہم بھی یہ دعا پڑھا کریں حضورکی نقل کرتے ہوئے۔شعر
تیری خلق کو رب نے جمیل کیا تیرے خلق کو رب نے عظیم کہا
کوئی تجھ سا ہوا نہ ہوگا شاہا تیرے خالق حسن ادا کی قسم
۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم صورت و سیرت میں بے مثال ہیں۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ صورت کی نورانیت دل کی نورانیت کا پتہ دیتی ہے اس لیے حضور انور آئینہ میں اپنی شکل پاک دیکھ کر اپنی سیرت کا بھی ذکر فرماتے تھے ورنہ سیرت آئینہ میں نظر نہیں آتی۔(مرقاۃ)ہم لوگ بھی آئینہ دیکھ کر یہ دعا پڑھیں یہ سمجھ کر کہ رب تعالٰی نے ہم کو صحت و تندرستی بخشی ہے،بہت سے لوگ کانے نکٹے برص کے مارے اور ہونٹ کٹے ہوتے ہیں جن سے ان کی صورتیں بگڑ گئی ہوتی ہیں شکر ہے کہ ہم ان سب سے محفوظ ہیں۔