۱؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو اخلاق کی تعلیم دینے کے لیے تشریف لائے اور ہم آخری نبی ہیں جیسے ہماری ذات سے دین مکمل ہوا،اللہ تعالٰی کی نعمت تمام ہوئی،نبوت ختم ہوئی ایسے ہی ہم نے تعلیم اخلاق کو مکمل فرمادیا،اب تا قیامت علماء و اولیاء ہمارے نقش قدم پر چل کر ہمارے اخلاق لوگوں کو سکھائیں گے۔اس صورت میں اتمام کا مقصد ناقص کو کامل کرنا نہیں بلکہ اخلاق کے اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے۔دوسرے یہ کہ اہل عرب نے عقائد ابراہیمی اعمال ابراہیمی بدل دیئے تھے مگر اخلاق ابراہیمی کے یہ لوگ حامل تھے،درازی زمانہ کی وجہ سے اہل عرب کے اخلاق ناقص ہوگئے تھے میں انہیں اخلاق ابراہیمی کی تکمیل کے لیے آیا ہوں کہ لوگوں کو جناب خلیل اللہ صلوات اللہ علیہ کے اخلاق کی تعلیم پورے طور پر دوں اور پیدا شدہ نقصان اور کمی کو دور کروں،پہلے معنی شیخ نے فرمائے،دوسرے معنی مولانا ملا علی قاری نے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہیں حضور سے نبوت،اخلاق،ہدایت کی تکمیل ہوئی،حضور جمع الجمع ہیں،آپ سے مسیر(چلنا)آپ کی طرف مصیر ہے(لوٹنا)،تمام انبیاء کرام کی صفات کے جامع ہیں۔(مرقات)