۱؎ حضور انور کی یہ دعا یا تو امت کی تعلیم کے لیے ہے یا اچھے اخلاق اور زیادتی کی طلب کے لیے یا اس پر دائم قائم رہنے کے لیے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ساری خدائی سے بڑھ کر خوش خلق ہیں لہذا یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ کے اس قول کے خلاف نہیں کہ آپ کا خلق قرآن ہے۔ہم نماز میں پڑھتے ہیں"اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ"حالانکہ ہم ہدایت پر ہیں مسلمان ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"۔صوفیاء کرام فرماتے کہ باطنی ترقی کی انتہا نہیں کیونکہ وہ تجلی الٰہی سے ہے اور تجلی الٰہی کی انتہا نہیں حتی کہ اس کی انتہا جنت میں بھی نہ ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ" یہ زیادتی ہمیشہ ہوتی رہے گی۔(مرقات)