۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن کی ولادت کے وقت ان کے کان میں بعینہ وہی اذان کہی جو اذان نماز کے لیے کہی جاتی ہے۔حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی ہے کہ جس بچہ کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے تو اسے ان شاءاللہ ام الصبیان کی بیماری نہیں ہوتی۔(مسند ابویعلی موصلی و مرقات)حضرت عمر بن عبدالعزیز یہ ہی عمل کرتے تھے،یہ سنت ہے۔(مرقاۃ) اس سے بچہ کے کان میں پہلی آواز اللہ کے نام کی پہنچتی ہے،نیز اذان کی آواز سے شیطان بھاگتا ہے۔(اشعۃ اللمعات)اس سے معلوم ہوا کہ اذان صرف نماز کے لیے نہیں ہے اور موقعہ پربھی سنت ہے اس لیے بعد دفن قبر پر اذان دی جاتی ہے،اذان کے مواقع ہم باب الاذان میں بیان کرچکے ہیں۔