| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا ۱؎ تو فرمایا اللہ عقوق کو پسند نہیں کرتا شاید حضور نے یہ نام ناپسند کیا ۲؎ اور فرمایا جس کے بچہ پیدا ہو پھر وہ چاہے کہ اس کی طرف سے جانور دے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں دے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۳؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یا تویہ پوچھا کہ عقیقہ کرنا واجب ہے یا سنت یا مستحب یا یہ پوچھا کہ اسے عقیقہ کہنا کیسا ہے یعنی اسم یا مسمی کے متعلق دریافت کیا۔ ۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ جن احادیث میں لفظ عقیقہ آیا ہے وہ ممانعت سے پہلے کی ہیں اور یہ حدیث ان کی ناسخ ہے،بعض نے اس کے برعکس کہا ہے کہ یہ حدیث ممانعت منسوخ ہے اور وہ احادیث ناسخ ہیں۔ فقیر کے نزدیک دوسرا قول زیادہ قوی ہے اور لفظ عقیقہ بولنا بلاکراہت جائزہے۔اس جملہ پاک کا مطلب یہ ہے کہ عقیقہ میں شبہ ہوتا ہے کہ یہ لفظ عقوق سے بنا ہو جس کے معنی ہیں والدین کی نافرمانی اور ناحق شناسی لہذا اس کا نام عقیقہ مت رکھو۔ ۳؎ یعنی اس عمل کو عقیقہ نہ کہو بلکہ نسیکہ کہو کہ اسمیں فاسد معنی کا احتمال نہیں۔یہاں تصریح ہوگئی کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں چاہئیں اور لڑکی کی طرف سے ایک ،یہ ہی سنت ہے۔