روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم تھے دور جاہلیت میں کہ جب ہم میں سے کسی کے بچہ پیدا ہوتا تو وہ بکری ذبح کرتا اور اس کے سر کو بکری کے خون سے لتھیڑ دیتا پھر جب اسلام آیا تو ہم ساتویں دن بکری ذبح کرتے تھے اور بچہ کا سر منڈواتے اسے زعفران سے لتھیڑتے ۲؎ (ابوداؤد)اور رزین نے زیادہ کیا کہ نام رکھتے۔
شرح
۱؎ آپ بریدہ ابن حصیب اسلمی ہیں،غزوہ بدر سے پہلے ایمان لائے،مشہور صحابی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے۔ ۲؎ یعنی کہ ا سلام میں بچہ کے سر پر بکری کا خون نہیں لیپتے کہ وہ نجس ہے اس کی بجائے زعفران سے بچہ کا سر لیپ دیتے ہیں مگر سر مونڈنے کے بعد۔یوں ہی بعض صوفیاء مرغ کے خون سے بعض تعویذ لکھتے ہیں مگر چاہیے کہ ایسےتعویذ مرغ کے دل کو زعفران و گلاب میں پیس کر لکھے جاویں۔یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد ظہور نبوت اپنا عقیقہ خود کیا۔واللہ اعلم! عقیقہ کا گوشت اگر کچا تقسیم کردیں تو بھی درست ہے،اگر پکا تقسیم کریں یا کھلا دیں تب بھی درست ہے۔واللہ و رسولہ اعلم!