Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
89 - 975
حدیث نمبر 89
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو اس کے متعلق حکم دیتیں تو ڈھک دیا جاتا حتی کہ اس کے دھوئیں کا جوش جاتا رہتا ۱؎ اور فرماتیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ عمل برکت بڑھانے والا ہے ۲؎(دارمی)
شرح
۱؎ ثرید کے معنی پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔شوربے میں گلائی ہوئی روٹی یعنی آپ بہت گرم کھانا نہ کھاتی تھیں اور کھانا کھول کر پھونکیں مارکر ٹھنڈا نہ کرتی تھیں بلکہ پکنے کے بعد کچھ دیر ڈھکا رہنے دیتیں جب خود ٹھنڈا ہوجاتا تو کھاتی تھیں۔

۲؎  یعنی کھانے کا قدرے ٹھنڈا ہوجانا اور پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرنا برکت کا باعث ہے اس لیے کھانے میں بھی تکلیف نہیں ہوتی،دیلمی شریف میں ہے کہ گرم کھانے میں برکت نہیں۔
Flag Counter