| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو اس کے متعلق حکم دیتیں تو ڈھک دیا جاتا حتی کہ اس کے دھوئیں کا جوش جاتا رہتا ۱؎ اور فرماتیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ عمل برکت بڑھانے والا ہے ۲؎(دارمی)
شرح
۱؎ ثرید کے معنی پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔شوربے میں گلائی ہوئی روٹی یعنی آپ بہت گرم کھانا نہ کھاتی تھیں اور کھانا کھول کر پھونکیں مارکر ٹھنڈا نہ کرتی تھیں بلکہ پکنے کے بعد کچھ دیر ڈھکا رہنے دیتیں جب خود ٹھنڈا ہوجاتا تو کھاتی تھیں۔ ۲؎ یعنی کھانے کا قدرے ٹھنڈا ہوجانا اور پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرنا برکت کا باعث ہے اس لیے کھانے میں بھی تکلیف نہیں ہوتی،دیلمی شریف میں ہے کہ گرم کھانے میں برکت نہیں۔