Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
90 - 975
حدیث نمبر 90
روایت ہے حضرت نبیشہ سے فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو پیالہ میں کھائے پھر اسے چاٹ لے تو پیالہ اس سے کہتا ہے کہ تجھے اللہ آگ سے آزاد کرے جیسے تو نے مجھے شیطان سے آزادکرایا ۲؎(رزین)
شرح
۱؎ یہ وہ ہی نبیشہ ہیں جن کا ذکر ابھی کچھ پہلے ہوا جنہیں نبیشہ الخیر کہتے ہیں۔

۲؎  ظاہر یہ ہوا کہ پیالہ اپنی زبان میں یہ الفاظ رکھتا ہے صرف زبان حال مراد نہیں۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ سنا ہوا برتن بغیر صاف کیے ہوئے پڑا رہے تو اس سے شیطان چاٹتا ہے،حدیث ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔بعض نے فرمایا کہ کہنے سے مراد ہے زبان حال سے کہنا اور شیطان کے چاٹنے سے مراد کتے بلّوں کا چاٹنا کہ سنے ہوئے برتن کو کتے بلے چاٹتے ہیں اس سے برتن کی توہین ہوتی ہے۔
Flag Counter