۱؎ حضرت سہل بھی صحابی ہیں،آپ کے والد سعد بھی صحابی ہیں،مدینہ منورہ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی فوت ہوئے۔
۲؎ یعنی دنیاوی یا دینی کاموں کو اطمینان سے کرنا اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہے اور ان میں جلد بازی سے کام لینا شیطانی وسوسہ ہے۔اس ترجمہ اور شرح سے معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں"سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"اور نہ اس آیت کے خلاف ہے"یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ"کہ وہاں سرعت یعنی دینی کام میں دیر نہ لگانے جلد ادا کرلینے کی تعریف ہے اور یہاں خود کام میں جلد بازی کرنا کہ کام بگڑ جائے اس سے ممانعت ہے،بعض لوگ دو منٹ میں چار رکعتیں پڑھ لیتے ہیں یہ ہے عجلت نفس،عبادت میں جلدی بری ہے۔
۳؎ یعنی مہیمن ابن عباس ہیں تو متقی پرہیزگار مؤمن کامل مگر ان کا حافظہ کمزور تھا۔