Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
882 - 975
حدیث نمبر 882
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اطمینان اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ۲؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے اور بعض محدثین نے عبدالمھیمن ابن عباس کے متعلق اس کے حافظہ کے بارے میں کچھ کلام کیا ہے ۳؎
شرح
۱؎ حضرت سہل بھی صحابی ہیں،آپ کے والد سعد بھی صحابی ہیں،مدینہ منورہ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی فوت ہوئے۔

۲؎  یعنی دنیاوی یا دینی کاموں کو اطمینان سے کرنا اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہے اور ان میں جلد بازی سے کام لینا شیطانی وسوسہ ہے۔اس ترجمہ اور شرح سے معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں"سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"اور نہ اس آیت کے خلاف ہے"یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ"کہ وہاں سرعت یعنی دینی کام میں دیر نہ لگانے جلد ادا کرلینے کی تعریف ہے اور یہاں خود کام میں جلد بازی کرنا کہ کام بگڑ جائے اس سے ممانعت ہے،بعض لوگ دو منٹ میں چار رکعتیں پڑھ لیتے ہیں یہ ہے عجلت نفس،عبادت میں جلدی بری ہے۔

۳؎  یعنی مہیمن ابن عباس ہیں تو متقی پرہیزگار مؤمن کامل مگر ان کا حافظہ کمزور تھا۔
Flag Counter