۱؎ عبدالقیس ایک قبیلہ کانام ہے،اشج بمعنی رئیس و سردار اس سردار کا نام منذر ابن عائذ تھا،یہ لوگ اپنی قوم کے نمائندہ بن کر اسلام لانے آئے تھے،دوسرے لوگ تو آتے ہی بھاگے ہوئے،حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر اس سردار نے اولًا غسل کیا،پھر عمدہ لباس تبدیل کیا،پھر نہایت وقار و سکون سے مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوا،دونفل پڑھے،پھر دعا مانگی،پھر حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوا حضور انور کو اس کی یہ ادا بہت پسند آئی تب یہ فرمایا۔(اشعہ)
۲؎ جب حضور انور نے اسے یہ بشارت دی تو وہ بولا کہ یارسول اللہ میری صفتیں کسبی ہیں یا رب تعالیٰ کی عطا کی ہوئی،فرمایا کہ رب تعالیٰ کی عطا تب اس نے سجدۂ شکر کیا،بولا کہ اگر میری کسبی ہوتیں تو قابل زوال ہوتیں رب کی عطا زائل نہیں ہوتی خدا کا شکر ہے جس نے مجھے وہ خصلتیں بخشیں ہیں جس سے وہ اور اس کے رسول راضی ہیں۔(مرقات و اشعہ)