Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
880 - 975
باب الحذر و التأنی فی الامور

احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ حذر ح  اور ذال کے فتح سے بمعنی پرہیز کرنا احتیاط برتنا اور حذر ذال کے کسرہ سے بمعنی محتاط آدمی،احتیاط کرنے والا شخص۔حذر کے معنی ہیں وہ نقصان دہ شخصوں سے پرہیز کرنا۔تأنی کے معنی ہیں اطمینان سے کام کرنا،اس کا مقابل ہے تعجیل یعنی جلد بازی۔خیال رہے کہ ہر کام میں تاخیر و احتیاط سے کام کرے مگر اخروی کاموں میں جلدی کرنا بہتر کہ موت کی خبر نہیں۔
حدیث نمبر 880
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مؤمن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں کاٹا جاتا ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث کا شان نزول یہ ہے کہ ایک کافر شاعر جس کا نام ابوعزہ تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کی مخالفت میں سخت توہین آمیز اشعار کہا کرتا تھا،جنگ بدر میں گرفتار ہوگیا اس نے حضور انور سے گزشتہ کی معافی مانگی آئندہ اس حرکت سے باز رہنے کا عہد کیا حضور انور نے اسے چھوڑ دیا،وہ چھوڑکر پھر اس حرکت میں مشغول ہوگیا،پھر جنگ احد میں گرفتار ہوا پھر اس نے معذرت کی اور صحابہ کرام نے اس کی رہائی کی سفارش کی تب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمایا کہ مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں کاٹا جاتا اور اسے رہائی نہ بخشی یعنی جس سوراخ سے ایک بار بچھو نے کاٹ لیا ہو اس سوراخ میں دوبارہ انگلی مت ڈالو، جس شخص سے ایک بار دھوکا کھالیا ہو دوبارہ اس کے دھوکے میں نہ آؤ اس شاعر کو قتل کردیا گیا۔(مرقات و اشعہ)
Flag Counter