۱؎ یعنی جوشخص اپنے مسلمان بھائی کو ناراض کرے پھر عذر خواہی کے لیے اس کے پاس آئے اس سے معافی چاہے یا قصور کا بدلہ کرنا چاہے۔
۲؎ یعنی بغیر عذر اسے معافی نہ دے اس سے دل صاف نہ کرے۔
۳؎ جیسے ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم ہوتے ہیں انہیں سخت سزا ملے گی ایسے ہی اس شخص کو سخت سزا ملے گی۔
۴؎ ٹیکس مقرر کرنے والا کسی تاجر وغیرہ کا عذر نہیں قبول کرتا بہرحال اپنی مرضی کے مطابق لگادیتا ہے یہ شخص بھی عذر قبول نہیں کرتا اس لیے یہ تشبیہ بالکل درست ہے۔عشار وہ حکام ہیں جو زمین اور کسانوں کی پیداوار پر عشر(دسواں حصہ)لگائے یا وصول کرنے پر مقرر ہوں۔