Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
879 - 975
حدیث نمبر 879
روایت ہے حضرت جابر سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو اپنے بھائی سے معذرت کرے ۱؎  وہ اس کی معذرت نہ مانے ۲؎  یا اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس والے کا سا گناہ ہوگا۳؎  ان دونوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا اور فرمایا مکاس ٹیکس لینے والا ہے۴؎
شرح
۱؎  یعنی جوشخص اپنے مسلمان بھائی کو ناراض کرے پھر عذر خواہی کے لیے اس کے پاس آئے اس سے معافی چاہے یا قصور کا بدلہ کرنا چاہے۔

۲؎  یعنی بغیر عذر اسے معافی نہ دے اس سے دل صاف نہ کرے۔

۳؎  جیسے ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم ہوتے ہیں انہیں سخت سزا ملے گی ایسے ہی اس شخص کو سخت سزا ملے گی۔

۴؎  ٹیکس مقرر کرنے والا کسی تاجر وغیرہ کا عذر نہیں قبول کرتا بہرحال اپنی مرضی کے مطابق لگادیتا ہے یہ شخص بھی عذر قبول نہیں کرتا اس لیے یہ تشبیہ بالکل درست ہے۔عشار وہ حکام ہیں جو زمین اور کسانوں کی پیداوار پر عشر(دسواں حصہ)لگائے یا وصول کرنے پر مقرر ہوں۔
Flag Counter