۱؎ فقیر آدمی کبھی اللہ تعالیٰ پر اعتراض کردیتا ہے کہ تو نے مجھ پر ظلم کیا کہ فقیر کردیا،کبھی لوگوں سے اللہ کی شکایت کرتا ہے،کبھی مال حاصل کرنے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسلام چھوڑکر دوسرے مذہب میں داخل ہوجاتا ہے اپنے دین کو فروخت کر ڈالتا ہے،کبھی رضا بالقضاء سے منہ موڑ لیتا ہے یہ سب کفر یا سبب کفر ہیں،امیری کے فتنوں سے غریبی کے فتنے زیادہ ہیں۔خیال رہے کہ فقر مع صبر اللہ کی رحمت ہے جس کے متعلق ارشاد ہوا الفقر فخری اور فقر مع کفر(ناشکری)اللہ کا عذاب ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں،فقیر صابرکو غنی شاکر سے افضل مانا گیا ہے۔
۲؎ یعنی قریب ہے کہ حسد تقدیر کو بدل دے کیونکہ حاسد خود محسود کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے،اس کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اس کا کچھ نہیں بگڑتا حاسد کی نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں،چونکہ کبھی حسد بھی کفر تک پہنچا دیتا ہے اس لیے حسد کو فقیر کے ساتھ بیان فرمایا شیطان حسد کا کافر ہے۔