| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جناب عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں کہ حضرت صفیہ ۱؎ کا اونٹ بیمار ہوگیا اور حضرت زینب ۲؎ کے پاس بچی ہوئی سواری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت زینب سے کہا کہ یہ اونٹ انہیں دے دو ۳؎ وہ بولیں میں اس یہودیہ کو دوں۴؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ناراض ہوئے تو انہیں بقر عید محرم اور صفر کا کچھ حصہ چھوڑے رکھا ۵؎(ابوداؤد)اور حضرت معاذ ابن انس کی حدیث میں من حمی مؤمنا الخ شفقت و رحمت کے باب میں ذکر کردی گئی ۶؎
شرح
۱؎ آپ کا نام صفیہ بنت حیی ابن اخطب ہے،حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،پہلے کنانہ بنت ابی الحقیق کے نکاح میں تھیں ان کا خاوند محرم ۷ ہجری میں غزوہ خیبر میں مارا گیا،آپ قید ہوکر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئیں،آپ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آزاد کر کے خود اپنے نکاح سے شرف بخشا لہذا آپ ام المؤمنین ہیں، ۵۰ ھ پچاس میں وفات پائی،جنت بقیع میں دفن ہوئیں۔ ۲؎ آپ زینب بنت جحش ہیں،آپ کی والدہ امیہ بنت عبدالمطلب ہیں،حضور انور کی پھوپھی،آپ پہلے حضرت زید ابن حارثہ کے نکاح میں تھیں ان کے طلاق دے دینے کے بعد حضور کے نکاح میں آئیں،حضور انور سے نکاح ۵ ہجری میں ہوا۔ ۳؎ غالبًا یہ واقعہ کسی سفر کا ہے جب کہ حضرت صفیہ کو اونٹ کی ضرورت تھی سواری کے لیے اور حضرت زینب کے پاس ایک اونٹ زائد تھا۔ ۴؎ عمومًا سوکنوں کو آپس میں غیظ و غضب ہوتا ہے اس بنا پر یہ عرض کیا۔یہودیہ سے مراد قوم یہود ہے نہ کہ مذہب یہود کیونکہ صفیہ اب تو مسلمان ہوچکی تھیں اور جناب زینب سرداران قریش کی بیٹی تھیں یعنی میں یہودی قوم والی بی بی کو نہ دوں گی۔ ۵؎ یعنی قریبًا ڈھائی مہینہ ان سے کلام سلام بند فرما دیا مگر یہ ترک کلام عداوت کے لیے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کے لیے ہے۔جن احادیث میں تین دن سے زیادہ ترک کلام کی ممانعت ہے وہاں دشمنی کا ترک کلام مراد ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بیوی کو بجائے مارنے پیٹنے کے ترک کلام سے تعلیم و تربیت دے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَاہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ"۔ ۶؎ یعنی یہ حدیث مصابیح میں یہاں ہی مذکور تھی ہم نے مناسبت کا خیال رکھتے ہوئے وہاں نقل کی یہ حدیث بہت دراز ہے۔